تمل فلموں کے سپر اسٹار اور اب سیاست میں قدم رکھنے والے وجے کا انتخابی جلسہ ہفتہ کی شب ضلع کرور، تمل ناڈو میں خوفناک سانحے میں بدل گیا۔ جلسے میں بھگدڑ مچنے سے کم از کم 36 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ مقامی میڈیا بعض رپورٹس میں ہلاکتوں کی تعداد 41 تک بتا رہا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق جیسے ہی وجے نے خطاب شروع کیا تو لوگ اچانک اسٹیج کی جانب بڑھنے لگے۔ "سانس لینا مشکل ہوگیا تھا۔ کئی لوگ گر گئے اور بھیڑ رکتے رکے آگے بڑھتی رہی،” ایک زخمی شہری ایس۔ مرگن نے بتایا۔
جلسے میں ہزاروں افراد شریک ہوئے تھے، جو مقررہ جگہ کی گنجائش سے کہیں زیادہ تھے۔ پولیس حکام نے بعد میں اعتراف کیا کہ حفاظتی انتظامات ناکافی تھے۔ ایک سینئر افسر نے میڈیا کو بتایا، "اس پیمانے کی بھیڑ کے لیے انتظامات نہیں تھے۔ جیسے ہی خوف پھیلا، حالات قابو سے باہر ہوگئے۔”
وجے، جو حال ہی میں اپنی سیاسی جماعت بنا چکے ہیں، حادثے کے بعد فوری طور پر کرور گورنمنٹ اسپتال پہنچے اور زخمیوں کی عیادت کی۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا:
"میرا دل ٹوٹ گیا ہے۔ یہ کبھی نہیں ہونا چاہیے تھا۔ جاں بحق افراد کے خاندانوں سے دلی تعزیت کرتا ہوں۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے ہر ممکن قدم اٹھاؤں گا۔”
ریاستی حکومت نے سانحے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے انتظامیہ اور وجے کی ٹیم کو غفلت کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ وجے کی مقبولیت دیکھتے ہوئے ان کے جلسے میں غیر معمولی ہجوم کا امکان تھا، جس کے لیے سخت حفاظتی اقدامات ضروری تھے۔
پورے تمل ناڈو میں اس واقعے پر غم کی فضا ہے۔ جہاں وجے نہ صرف ایک فلمی ہیرو سمجھے جاتے ہیں بلکہ کئی لوگ انہیں مستقبل کے سیاسی رہنما کے طور پر دیکھتے ہیں۔ مگر ان کے سیاسی سفر کی شروعات ہی ایک تلخ سانحے سے جڑ گئی ہے۔
