جنوبی وزیرستان میں محکمہ تعلیم نے غیر حاضر اساتذہ کے خلاف بڑی کارروائی شروع کر دی ہے، اور 51 اساتذہ پر ڈیوٹی سے غیر حاضری کے الزامات کی تحقیقات کے لیے تین انکوائری کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔
ڈپٹی کمشنر مسرت زمان کے مطابق یہ اقدام ضلع میں تعلیمی کارکردگی میں کمی اور تعلیمی معیار میں گراوٹ پر بڑھتی ہوئی تشویش کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ ان کمیٹیوں کو ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (DEO) کے دفتر کے تحت تشکیل دیا گیا ہے، اور انہیں 15 دن کے اندر رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ہر کمیٹی اساتذہ کی حاضری کے ریکارڈ، غیر حاضری کے دورانیے اور متعلقہ دستاویزات کا جائزہ لے کر انضباطی کارروائی یا کلیئرنس کے لیے سفارشات پیش کرے گی۔
ڈی ای او ملک خان نے بتایا کہ گزشتہ سال غیر حاضر اساتذہ سے 72 لاکھ روپے کی رقم وصول کی گئی تھی، جبکہ کئی دیگر اساتذہ کے سالانہ اضافے (increments) بھی روک دیے گئے تھے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
حکام کے مطابق اس کارروائی کا مقصد نظم و ضبط کی بحالی، جوابدہی کو یقینی بنانا اور غیر فعال اسکولوں کو دوبارہ فعال کرنا ہے، خصوصاً برمل، شکئی، اور انگور اڈہ جیسے دور دراز علاقوں میں جہاں سینکڑوں بچے، خصوصاً بچیاں، تعلیم سے محروم ہیں۔
