اسلام آباد — چین اور پاکستان نے ایک نئے پانچ سالہ روڈمیپ کے تحت سائنس، تعلیم اور ثقافت میں تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد مشترکہ تحقیق، ہنرمند افراد کے تبادلے اور ثقافتی اقدامات کے ذریعے طویل المدتی عوامی روابط کو مضبوط بنانا ہے۔
معاہدے کے تحت دونوں ممالک بیلٹ اینڈ روڈ فریم ورک میں مشترکہ ریسرچ لیبارٹریاں قائم کریں گے جو قدرتی آفات کی روک تھام، موسمیاتی تبدیلی، صاف توانائی اور مصنوعی ذہانت پر تحقیق کریں گی۔ میرین سائنس، توانائی کی تلاش اور ڈیجیٹل سکیورٹی میں بھی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ خلائی پروگرام کے تحت 2030 تک خلا بازوں کی تربیت، قمری تحقیق اور سیٹلائٹ ریموٹ سینسنگ کے منصوبے جاری رہیں گے۔
چین 2025 سے 2029 تک پاکستانی طلبہ، محققین اور انجینئرز کے لیے 3 ہزار تربیتی اور تعلیمی مواقع فراہم کرے گا۔ "ٹیلنٹڈ ینگ سائنٹسٹ” پروگرام اور ٹیکنیکل ورکشاپس کے ذریعے نوجوان سائنسدانوں اور ماہرین کو خصوصی تربیت دی جائے گی۔ دونوں ممالک نے پیشہ ورانہ مہارت، روزگار کے فروغ اور انجینئرز کی اسناد کی باہمی تسلیم میں بھی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
ماحولیاتی شعبے میں فضائی آلودگی، پانی کے تحفظ اور موسمیاتی لچک (Resilience) کے لیے مشترکہ اقدامات کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ پانی کے انتظام اور گرین ڈویلپمنٹ کے تجربات شیئر کیے جائیں گے۔
تعلیم اور ثقافت میں مزید طلبہ و اساتذہ کے تبادلوں کو فروغ دیا جائے گا، جامعات سی پیک سے منسلک شراکت داری کو وسعت دیں گی اور پاکستانی طلبہ کی بڑی تعداد چینی اداروں میں تعلیم حاصل کرے گی۔ فلم، میڈیا اور ثقافتی منصوبوں میں بھی تعاون بڑھایا جائے گا جبکہ پاکستانی فلمیں گولڈن پانڈا ایوارڈز میں حصہ لیں گی۔
منصوبے میں کھیل، فضائی رابطوں اور تاریخی ورثے کا فروغ بھی شامل ہے۔ نئے فضائی راستے اور سسٹر سٹی شراکت داریاں قائم ہوں گی، کھلاڑیوں اور کوچز کے تبادلے کو فروغ دیا جائے گا اور ایشیائی ثقافتی ورثہ الائنس کے تحت آثار قدیمہ اور تاریخی مقامات کی بحالی میں مشترکہ منصوبے کیے جائیں گے۔
