دنیا بھر کے بی ٹی ایس مداحوں کے لیے ایک بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے۔ مشہور کے پاپ بینڈ بی ٹی ایس کے 2026 کے ورلڈ ٹور کی خبریں گردش میں ہیں، اور اس بار امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ممبئی بھی ان کے کنسرٹس کی فہرست میں شامل ہو گا۔ اگر یہ خبر درست ثابت ہوتی ہے تو یہ بھارت کے شائقین کے لیے تاریخی لمحہ ثابت ہوگا جو برسوں سے اپنے پسندیدہ بینڈ کو لائیو دیکھنے کے منتظر ہیں۔
بین الاقوامی ذرائع کے مطابق، اس ممکنہ ورلڈ ٹور میں سیول، ٹوکیو، لاس اینجلس، لندن، پیرس کے ساتھ ساتھ ممبئی کا نام بھی شامل ہے۔ یہ فیصلہ بھارت میں تیزی سے بڑھتی ہوئی کے پاپ فین بیس اور عالمی پاپ کلچر میں بھارتی نوجوانوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو تسلیم کرنے کے مترادف ہوگا۔
جنگ کوک، جو بی ٹی ایس کے سب سے کم عمر رکن ہیں، نے جون 2025 میں اپنی فوجی سروس مکمل کی تھی۔ اب وہ ایک نئے جذبے کے ساتھ گروپ کی واپسی کی تیاری میں مصروف ہیں۔ شائقین کے لیے یہ واپسی محض ایک کنسرٹ نہیں بلکہ ایک ثقافتی لمحہ ہے جو دنیا بھر کے بی ٹی ایس فینز کو ایک بار پھر جوڑ دے گا۔
دوسری جانب، بی ٹی ایس کی منیجمنٹ کمپنی ہائیب (HYBE) نے حال ہی میں ممبئی میں اپنے آپریشنز کو وسعت دی ہے، جو جنوبی ایشیائی فینز کے ساتھ گہرے تعلقات استوار کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ اس اقدام نے بھارت میں بی ٹی ایس کے ممکنہ کنسرٹ کی افواہوں کو مزید تقویت دی ہے۔
تاہم، شہرت کے اس سفر میں جنگ کوک کو اپنی ذاتی زندگی اور پرائیویسی کے حوالے سے بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ رواں سال جون میں ایک چینی خاتون جنگ کوک کے سیول والے اپارٹمنٹ کے باہر دیکھی گئی تھیں جب وہ کوڈ ڈال کر اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہی تھیں۔ اگرچہ عدالت نے بعد میں اسے بری کر دیا، مگر اس کے کچھ ہی ہفتے بعد ایک اور خاتون کو جنگ کوک کی رہائش گاہ کے قریب پکڑا گیا، جس پر اینٹی اسٹاکنگ قانون کے تحت مقدمہ چل رہا ہے۔
یہ واقعات اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ عالمی شہرت کے ساتھ ذاتی حدود کی حفاظت ایک مستقل چیلنج بن جاتی ہے۔ جنگ کوک نے ایک لائیو ویڈیو میں مداحوں سے گزارش کی تھی: “براہ کرم یہاں مت آئیں، لائن کراس مت کریں۔” ان کے یہ الفاظ آج بھی شہرت کی قیمت اور انسانیت کی ضرورت دونوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
اب جب کہ بی ٹی ایس کے دوبارہ اکٹھا ہونے اور نئے دور کے آغاز کی خبریں عام ہو رہی ہیں، فینز میں ایک نیا جوش اور تجسس پیدا ہو چکا ہے۔ اگر ممبئی واقعی ورلڈ ٹور کا حصہ بنتا ہے تو یہ نہ صرف بھارت کے کے پاپ مداحوں کے لیے سنگِ میل ہوگا بلکہ ایشیائی اور عالمی موسیقی کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز بھی بن سکتا ہے۔
— میڈیا ہائیڈ، انٹرٹینمنٹ ڈیسک
