لاہور – مقبول یوٹیوبر سعد الرحمان المعروف ڈکی بھائی کو آن لائن جوئے کی ایپس کے مبینہ پروموشن کے کیس میں عدالتی ریمانڈ کے خلاف اپیل دائر کرنے کے بعد عدالت سے بڑا ریلیف مل گیا۔
عدالتی کارروائی کے مطابق ڈکی بھائی کے وکیل چوہدری عثمان علی نے لاہور کی سیشن عدالت میں اپیل دائر کی، جس میں جوڈیشل مجسٹریٹ کی جانب سے چار روزہ جسمانی ریمانڈ کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا۔ سیشن کورٹ نے اپیل سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے ڈکی بھائی کو عارضی ریلیف فراہم کیا۔
اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ نے حقائق کا درست جائزہ لیے بغیر جسمانی ریمانڈ منظور کیا، اس لیے یہ فیصلہ غیر منصفانہ ہے اور کالعدم قرار دیا جائے۔
سیشن کورٹ نے اپیل پر کارروائی کرتے ہوئے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کو نوٹس جاری کر دیا اور یکم ستمبر تک تحریری جواب طلب کر لیا۔
یہ کیس اس الزام کے تحت سامنے آیا کہ ڈکی بھائی نے اپنی یوٹیوب ویڈیوز کے ذریعے جوئے سے متعلق ایپس کو پروموٹ کیا۔ سائبر کرائم حکام کی تحقیقات کے نتیجے میں ان کی گرفتاری اور جسمانی ریمانڈ عمل میں آیا، جس پر سوشل میڈیا پر شدید بحث چھڑ گئی۔
عدالت کے تازہ فیصلے نے اب توجہ اس بات پر مرکوز کر دی ہے کہ سائبر کرائم ایجنسی آئندہ سماعت میں کس طرح اپنا مؤقف پیش کرے گی۔ اس کیس کا نتیجہ پاکستان کے معروف ڈیجیٹل کانٹینٹ کری ایٹر کے خلاف کارروائی کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
