پاکستانی فلم ساز جواد شریف کی نئی دستاویزی فلم "موکلانی: دی لاسٹ موہاناز” ایک ایسی ثقافت کی کہانی سناتی ہے جو خاموشی سے مٹتی جا رہی ہے۔
یہ فلم سندھ کی جھیل منچھر کے باسیوں — موہاناز — کی زندگی اور جدوجہد کو دنیا کے سامنے لاتی ہے۔ ایک ایسی برادری جو صدیوں سے پانی پر جیتی آئی ہے، مگر اب بدلتی دنیا میں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔
جھیل کے لوگ — پانی پر بسنے والے
موہاناز، جنہیں عموماً “بوٹ پیپل” کہا جاتا ہے، سندھ کی جھیل منچھر کے کنارے اور پانیوں پر آباد ہیں۔
ان کی زندگی کشتیوں پر گزرتی ہے — گھر، بازار، حتیٰ کہ عبادت بھی انہی لکڑی کی کشتیوں پر ہوتی ہے۔
مچھلی پکڑنا ان کا پیشہ ہے، گیت اور کہانیاں ان کی روایت، اور جھیل ان کا وطن۔
مگر اب وہی جھیل جو کبھی زندگی کی علامت تھی، زہریلے پانی، ماحولیاتی آلودگی، اور خشک سالی کے باعث مرجھا رہی ہے۔
جواد شریف کی فلم ان لمحوں کو انتہائی قریب سے دکھاتی ہے — وہ بوڑھے چہرے جو جھیل کے ساتھ بوڑھے ہو گئے، وہ بچے جو تعلیم سے محروم ہیں، اور وہ عورتیں جو خاموشی سے اپنے گھر پانی پر بہتے دیکھتی ہیں۔
شریف نے ایک انٹرویو میں کہا:
“یہ صرف ان کا گھر نہیں جو ختم ہو رہا ہے، بلکہ ایک پوری ثقافت ہے جو آہستہ آہستہ مٹ رہی ہے۔”
دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن
فلم موکلانی: دی لاسٹ موہاناز نے عالمی سطح پر تاریخ رقم کر دی ہے۔
یہ فلم جیکسن وائلڈ میڈیا ایوارڈز 2025 میں گلوبل وائسز ایوارڈ جیتنے والی پہلی پاکستانی فلم بن گئی ہے۔
دنیا بھر سے 500 سے زائد فلموں میں سے منتخب ہونے والی موکلانی کو ججز نے اس کی “انسانی سچائی” اور “جذباتی طاقت” کے لیے سراہا۔
یہ ایوارڈ ماحولیات اور مقامی ثقافتوں پر مبنی کہانیوں کے لیے سب سے معزز عالمی پلیٹ فارم مانا جاتا ہے۔
جواد شریف نے کامیابی کے بعد کہا:
“یہ اعزاز موہانا برادری کا ہے۔ انہوں نے مجھے اپنی کہانی سنانے کا حق دیا، اور اب دنیا ان کی آواز سن رہی ہے۔”
یہ فلم کیوں اہم ہے؟
موکلانی صرف ایک فلم نہیں — ایک عہد نامہ ہے۔
یہ ان لوگوں کی کہانی ہے جنہیں ہم نے دیکھنا بھلا دیا، مگر جن کی زندگی ہماری زمین اور فطرت سے جڑی ہوئی ہے۔
-
ثقافتی ورثے کا تحفظ — فلم ان رسموں، زبانوں اور روایات کو محفوظ کرتی ہے جو اب ناپید ہونے کے قریب ہیں۔
-
ماحولیاتی شعور — یہ منچھر جھیل کے مسائل کو بڑے تناظر میں جوڑتی ہے: پانی کی قلت، آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی۔
-
نظرانداز شدہ آوازیں — فلم موہاناز کو خود بولنے کا موقع دیتی ہے، ان کے دکھ اور امیدوں کو ان کی زبان میں پیش کرتی ہے۔
جب جھیل مر جاتی ہے، تو صرف پانی نہیں مرتا — ایک تاریخ، ایک شناخت، ایک نسل کا وجود بھی ختم ہو جاتا ہے۔
پالیسی سازوں کے لیے ایک پیغام
عالمی سطح پر داد ملنے کے باوجود، موہانا برادری اب بھی پاکستان کی سب سے پسماندہ کمیونٹیز میں شامل ہے۔
ان کے پاس نہ زمین کی ملکیت ہے، نہ تعلیم تک آسان رسائی، اور نہ ہی صحت کی بنیادی سہولیات۔
ماہرین کے مطابق اگر جھیل منچھر اور اس کے باسیوں کو بچانا ہے تو حکومت کو فوری اقدامات کرنے ہوں گے —
صاف پانی کے منصوبے، پائیدار ماہی گیری کے پروگرام، اور ثقافتی تحفظ کی پالیسی کو ترجیح دینا ہوگی۔
موکلانی ایک فلم سے بڑھ کر، ایک یاددہانی ہے — کہ ترقی کی دوڑ میں ہم کہیں اپنے لوگوں کو بھول نہ جائیں۔
کہانی سے وراثت تک
جواد شریف ہمیشہ ان کہانیوں کو سامنے لاتے رہے ہیں جنہیں دنیا نہیں دیکھتی۔
چاہے انڈس بلوز ہو یا K2 اینڈ دی اِن ویزیبل فٹمین، ان کے کام میں فطرت اور انسان کا رشتہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
مگر موکلانی کے ساتھ انہوں نے کچھ اور بھی کر دکھایا — انہوں نے ایک گم ہوتی آواز کو امر کر دیا۔
یہ فلم صرف موہاناز کی نہیں، ہم سب کی ہے۔
کیونکہ جب ایک ثقافت مٹتی ہے، تو انسانیت کا ایک رنگ ماند پڑ جاتا ہے۔
