اسلام آباد: مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں وفاقی حکومت نے آن لائن اساتذہ اور ڈیجیٹل اکیڈمیوں پر 5 فیصد ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ نیا ٹیکس ان افراد اور اداروں پر لاگو ہوگا جو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے تعلیمی خدمات فراہم کرتے ہیں، جیسے آن لائن ٹیوشن، ای-لرننگ پورٹلز، اور ورچوئل اکیڈمیز وغیرہ۔ اس اقدام کا مقصد تیزی سے ترقی کرتے ہوئے آن لائن تعلیمی شعبے کو باضابطہ ٹیکس نیٹ میں لانا ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے مطابق، یہ ٹیکس بینکوں اور ادائیگی کے گیٹ وے کے ذریعے منبع پر ہی کاٹا جائے گا۔ حکام کا ماننا ہے کہ اس سے ہر سال اربوں روپے کی آمدنی حاصل کی جا سکتی ہے۔
تاہم، کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکس چھوٹے پیمانے پر تعلیم فراہم کرنے والے اساتذہ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایڈٹیک (EdTech) سیکٹر کی ترقی کو سست کر سکتا ہے، جو حالیہ برسوں میں سیکھنے کی لچکدار سہولت کی وجہ سے بہت تیزی سے فروغ پایا ہے۔
یہ ٹیکس اُس وقت نافذ العمل ہوگا جب پارلیمنٹ آئندہ بجٹ اجلاس میں اس کی منظوری دے گی۔ مزید نفاذ سے متعلق ہدایات جلد جاری کی جائیں گی۔
