ڈیجیٹل مہم پرورش نے ایک بار پھر معاشرتی حساسیت کو چیلنج کرتے ہوئے ایک ایسا موضوع چھیڑ دیا ہے جس پر اکثر چپ سادھ لی جاتی ہے — خود کو نقصان پہنچانا۔ اس بار اس مہم کی کہانی اور آواز کار عائشہ زاہد ہیں، جنہوں نے نہایت ہمدردی اور گہرائی کے ساتھ ان نوجوانوں کے جذبات کو بیان کیا ہے جو تنہائی، دباؤ اور اندرونی تکلیف سے گزر رہے ہوتے ہیں۔
عائشہ زاہد کی تخلیق میں دکھایا گیا کہ کس طرح بظاہر عام زندگی گزارنے والے لوگ اپنے اندر ایک ایسی جنگ لڑ رہے ہوتے ہیں جس کا دوسروں کو اندازہ تک نہیں ہوتا۔ کردار کی خاموشی، نظروں کی الجھن، اور ایک درد سے بھرپور آواز مل کر ناظر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔
عائشہ زاہد کہتی ہیں کہ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں، وہاں جذباتی کمزوری کو کمزوری سمجھا جاتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اکثر نوجوان اپنے دکھ کو چھپاتے ہیں، تب تک چھپاتے ہیں جب وہ تکلیف ناقابل برداشت ہو جائے۔ وہ پرورش کے ذریعے یہ پیغام دینا چاہتی ہیں کہ خاموشی بھی ایک چیخ ہوتی ہے — بس ہمیں سننے والا دل اور سمجھنے والی آنکھ چاہیے۔
یہ مہم صرف ایک ویڈیو نہیں، بلکہ ایک احساس ہے، ایک التجا ہے کہ بطور والدین، اساتذہ، دوست، یا محض انسان — ہم ایک دوسرے کے لیے نرم گوشہ رکھیں۔ ویڈیو کے مناظر کو بڑی حساسیت سے ترتیب دیا گیا ہے تاکہ دیکھنے والا صرف سمجھے ہی نہیں، محسوس بھی کرے۔
سوشل میڈیا پر اس مہم کو بے حد پذیرائی ملی ہے۔ نوجوانوں نے اپنے تجربات شیئر کیے، والدین نے اعتراف کیا کہ وہ بہت کچھ سمجھ نہیں پائے، اور ذہنی صحت کے ماہرین نے اسے ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔
پرورش نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کہانی سنانے کا فن اگر دل سے ہو، تو وہ نہ صرف دلوں کو چھو سکتا ہے بلکہ معاشرے کا رویہ بھی بدل سکتا ہے۔ عائشہ زاہد کی یہ پیشکش ایک سماجی آئینہ ہے — اور ایک خاموش پکار ہے کہ ہم سب کو رک کر سننا اور سمجھنا ہوگا۔
