پشاور: جمعیت علمائے اسلام (ف) نے خیبر پختونخوا اسمبلی میں سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کا درجہ حاصل کر لیا ہے، جب پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اقلیتوں کے لیے مخصوص نشست پر اپنا امیدوار دستبردار کر لیا۔
پنجاب مسلم لیگ (ن) نے جمعرات کو گورپال سنگھ کے حق میں اپنے امیدوار گورسرن لال کو واپس لے لیا، جس کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) گورپال سنگھ کو ایم پی اے منتخب قرار دے گا۔
دوسری جانب خواتین کی مخصوص نشست کے لیے عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی امیدوار شاہدہ وحید نے قرعہ اندازی میں پاکستان تحریک انصاف پارلیمینٹیرینز (پی ٹی آئی-پی) کی امیدوار سومی کو شکست دی۔
ان دونوں پیش رفتوں سے جے یو آئی (ف) کی مجموعی نشستیں 18 ہو گئیں، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے 17 اور پیپلز پارٹی کے 10 ارکان اسمبلی اپوزیشن کا حصہ ہیں۔ اس طرح اپوزیشن کے کل ارکان کی تعداد 52 ہو گئی ہے۔
خواتین کی مخصوص 26 نشستوں میں جے یو آئی (ف) اور مسلم لیگ (ن) کے 9، پیپلز پارٹی کے 5، اے این پی کے 2 اور پی ٹی آئی-پی کی ایک نشست ہے۔ اقلیتوں کی چار مخصوص نشستوں میں جے یو آئی (ف) کو 2، جبکہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو ایک ایک نشست ملی۔
خیبر پختونخوا اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف کا منصب فی الحال مسلم لیگ (ن) کے ڈاکٹر اقبال اللہ کے پاس ہے۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ارکان کی تعداد 92 پر برقرار ہے۔
