کراچی (اسٹاف رپورٹر): داؤد یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (ڈی یو ای ٹی) سے طلبہ کے اخراج کے خلاف اسلامی جمعیت طلبہ (آئی جے ٹی) نے پیر اور منگل کے روز کراچی بھر میں بھرپور احتجاجی مظاہرے کیے۔ مظاہروں کے باعث شہر کی کم از کم آٹھ بڑی شاہراہوں پر شدید ٹریفک جام رہا، جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
احتجاجی طلبہ نے جامعہ کے مرکزی گیٹ کے باہر بھی دھرنا دیا، جس کے باعث یونیورسٹی کے اندر موجود طلبہ و طالبات محصور ہو گئے، جب کہ نئے داخلہ لینے والے طلبہ بھی مشکلات کا شکار ہوئے اور گھروں کو واپس جانے پر مجبور ہو گئے۔
وائس چانسلر ڈاکٹر سمرین حسین ذاتی طور پر مظاہرین سے مذاکرات کے لیے پہنچیں، تاہم یونیورسٹی ترجمان کے مطابق مظاہرین نے ان کے ساتھ بدسلوکی اور ہراسانی کی، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔ ترجمان نے کہا کہ "وائس چانسلر نے طلبہ کے مسائل سننے کی کوشش کی، لیکن مظاہرین کے نامناسب رویے نے ماحول کو مزید خراب کیا اور ان کے عہدے کے تقدس کو پامال کیا گیا۔” پولیس اور یونیورسٹی انتظامیہ نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے وائس چانسلر کو مظاہرین کے درمیان سے نکالا اور حالات پر قابو پانے کی کوشش کی۔
مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ نکالے گئے طلبہ کو فوری طور پر بحال کیا جائے اور انضباطی کارروائیوں کو ختم کیا جائے، جسے وہ "غیر منصفانہ” قرار دیتے ہیں۔ دوسری جانب یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ طلبہ و طالبات کی حفاظت اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
