پاکستان کے سابق سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے خبردار کیا ہے کہ بھارت آئندہ مہینے یعنی اکتوبر میں پاکستان کے خلاف جارحانہ اقدام یا حملہ کر سکتا ہے، اس لیے اسلام آباد کو ہر سطح پر محتاط اور تیار رہنے کی ضرورت ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے اعزاز چوہدری نے کہا کہ بھارت ممکنہ طور پر ’’پلوامہ یا پہلگام طرز‘‘ کا کوئی واقعہ تراش سکتا ہے، جیسا کہ ماضی میں ایسے واقعات کو پاکستان کے خلاف کارروائی کے جواز کے طور پر استعمال کیا گیا۔ ان کے مطابق اکتوبر کا مہینہ پاکستان کے لیے نہایت حساس ہو سکتا ہے۔
2025 میں بڑھتی کشیدگی
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان اور بھارت کے تعلقات پہلے ہی شدید تناؤ کا شکار ہیں۔ حالیہ مہینوں میں سرحدی خلاف ورزیوں، ڈرون حملوں اور فضائی حدود کی پامالی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جنہوں نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے بھی ان واقعات کو خطے کے امن کے لیے خطرناک قرار دے رہے ہیں۔
"اکتوبر فیصلہ کن مہینہ”
اعزاز چوہدری نے کہا کہ بھارت اپنی پرانی حکمت عملی کے تحت کسی واقعے کو بنیاد بنا کر کارروائی کر سکتا ہے، اس لیے پاکستان کو دفاعی اور سفارتی دونوں سطحوں پر تیار رہنا چاہیے۔
انہوں نے کہا: "یہ حیران کن نہیں ہوگا اگر پلوامہ جیسا کوئی واقعہ دوبارہ رچایا جائے، پاکستان کو کسی بھی صورت غافل نہیں رہنا چاہیے۔”
خطے پر اثرات
ماہرین کے مطابق اگر واقعی بھارت اس قسم کی کوئی کارروائی کرتا ہے تو اس کے اثرات صرف پاکستان اور بھارت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے جنوبی ایشیا میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ امریکہ، چین اور خلیجی ممالک پہلے ہی دونوں ملکوں کو تحمل اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کا مشورہ دے چکے ہیں۔
آگے کیا ہوگا؟
حکومت پاکستان کی جانب سے تاحال اعزاز چوہدری کے بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم، ان کا یہ انتباہ سفارتی اور عسکری حلقوں میں تشویش کی ایک نئی لہر لے آیا ہے۔ جیسے جیسے اکتوبر قریب آ رہا ہے، دنیا کی نظریں لائن آف کنٹرول اور بھارت کی اندرونی سیاست پر مرکوز رہیں گی، جو آنے والے حالات کا تعین کر سکتی ہیں۔
