لاہور کی سیشن عدالت نے معروف یوٹیوبر ڈکی بھائی (سعد الرحمن) کی اہلیہ اروُب جٹوی کی عبوری ضمانت میں 6 نومبر 2025 تک توسیع کر دی ہے۔
سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ڈاکٹر ساجدہ چوہدری کی عدالت میں ہوئی، جہاں اروُب جٹوی اپنی قانونی ٹیم کے ہمراہ پیش ہوئیں۔ عدالت نے ضمانت میں توسیع دیتے ہوئے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کو ہدایت کی کہ اگلی پیشی پر تفصیلی تفتیشی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے۔
کیس کی نوعیت
تحقیقات کے مطابق، اروُب جٹوی اور دیگر چند سوشل میڈیا انفلوئنسرز پر الزام ہے کہ انہوں نے غیر قانونی آن لائن جوئے اور بیٹنگ ایپس کی تشہیر کی۔ ان ایپس کے ذریعے صارفین کو جعلی سرمایہ کاری اور تیز منافع کے جھانسے دیے گئے، جس کے نتیجے میں متعدد شہریوں کو مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
یہ مقدمہ اس سال کے آغاز میں درج کیا گیا تھا جب NCCIA نے ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز اور پروموشنل معاہدوں کے شواہد حاصل کیے جن سے مبینہ طور پر یہ تعلق سامنے آیا کہ کچھ مقامی انفلوئنسرز غیر قانونی ایپس کی تشہیر کے عوض معاوضہ لے رہے تھے۔
عدالت میں کارروائی
سماعت کے دوران اروُب جٹوی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی مؤکلہ کو بے بنیاد الزامات کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور یہ کہ تمام ڈیجیٹل شواہد بغیر کسی باضابطہ اجازت کے جمع کیے گئے۔ وکیل کا کہنا تھا کہ اروُب جٹوی نے تفتیشی ادارے کے ساتھ مکمل تعاون کیا ہے اور ان کے کسی غیر قانونی مالی لین دین کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔
عدالت نے وکیل کے دلائل سننے کے بعد عبوری ضمانت میں توسیع کی منظوری دے دی اور تفتیشی ادارے کو ہدایت دی کہ شفاف انداز میں تحقیقات مکمل کی جائیں اور ملزمان کو غیر ضروری ہراساں نہ کیا جائے۔
عوامی ردِعمل
اس کیس نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ڈکی بھائی، جو پاکستان کے معروف یوٹیوبرز میں شمار ہوتے ہیں، نے اب تک اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔ تاہم، ان کے مداح مختلف پلیٹ فارمز پر #AroobJatoi اور #DuckyBhai کے ہیش ٹیگز کے ساتھ ان کی حمایت میں پوسٹس کر رہے ہیں۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ ملک میں ڈیجیٹل اشتہارات اور انفلوئنسر مارکیٹنگ کے حوالے سے قانون سازی کی کمی کو نمایاں کرتا ہے۔
آئندہ کیا ہوگا؟
کیس کی اگلی سماعت نومبر میں متوقع ہے، جب NCCIA اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کرے گی۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر عدالت فیصلہ کرے گی کہ اروُب جٹوی کی عبوری ضمانت کنفرم کی جائے یا کیس کو باقاعدہ ٹرائل کی طرف بھیجا جائے۔
