یروشلم / بینکاک: دنیا کے مشہور ترین حسن کے مقابلے مس یونیورس کی تاریخ میں پہلی بار فلس-طین کی نمائندگی ہونے جا رہی ہے، اور یہ اعزاز حاصل کر رہی ہیں فلسطینی ماڈل اور فٹنس کوچ نادین ایوب۔
28 سالہ نادین ایوب، جو مس فلسطین 2022 کا تاج اپنے سر سجا چکی ہیں، اب باضابطہ طور پر مس یونیورس 2024 کے عالمی مقابلے میں حصہ لیں گی، جو اس سال کے آخر میں بینکاک (تھائی لینڈ) میں منعقد ہوگا۔
مسابقت سے بڑھ کر ایک پیغام
نادین نے اپنے انسٹاگرام پیغام میں لکھا:
"یہ صرف ایک مقابلہ نہیں، یہ ایک کہانی ہے۔ اُن لوگوں کی کہانی جو ہر مشکل کے باوجود اب بھی خواب دیکھتے ہیں، محبت کرتے ہیں، اور دنیا کے سامنے سر اٹھا کر جیتے ہیں۔”
اُن کا یہ بیان سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گیا، جہاں ہزاروں فلسطینیوں اور عالمی حامیوں نے انہیں ہمت، وقار اور امید کی علامت قرار دیا۔
نیوز ویک سے گفتگو میں نادین ایوب نے کہا کہ وہ اس پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے “دنیا کو فلسطینی خواتین کی طاقت، صلاحیت اور اصل چہرہ دکھانا چاہتی ہیں۔” ان کے مطابق، “میں چاہتی ہوں کہ دنیا فلسطین کو صرف تنازعات سے نہ پہچانے بلکہ تخلیق، ثقافت اور خوبصورتی سے بھی جانے۔”
یہ پہلا موقع ہے کہ مس یونیورس جیسے بین الاقوامی مقابلے میں فلسطین باقاعدہ طور پر نمائندگی کر رہا ہے۔ 1952 میں شروع ہونے والے اس مقابلے میں فلسطین کی عدم شرکت ہمیشہ ایک خالی جگہ سمجھی جاتی تھی، جو اب نادین ایوب نے پُر کر دی ہے۔
یہ تاریخی لمحہ ایسے وقت پر آیا ہے جب غزہ کی جنگ اور فلسطینی بحران نے دنیا بھر میں شدید بحث چھیڑ رکھی ہے۔
عالمی ردِعمل
نادین کی شرکت پر دنیا بھر سے حوصلہ افزا ردِعمل سامنے آیا ہے۔ فلسطینیوں نے انہیں "بے آوازوں کی آواز” اور "امید کی کرن” قرار دیا ہے۔ تاہم کچھ ناقدین نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ آیا حسن کا مقابلہ اس سیاسی بیانیے کے لیے درست پلیٹ فارم ہے یا نہیں۔
نادین ایوب نے ایک حالیہ بیان میں اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا:
“اگر فلسطینی عورت کے طور پر سر اُٹھا کر کھڑا ہونا سیاسی ہے، تو ہاں — میں فخر سے سیاسی ہوں۔”
امید کی علامت
نادین ایوب کہتی ہیں کہ یہ سفر صرف ایک خطاب جیتنے کا نہیں، بلکہ ایک پوری قوم کے خوابوں کو لے کر آگے بڑھنے کا ہے۔ اُن کے الفاظ میں:
“میں اسٹیج پر اکیلی نہیں جا رہی، میرے ساتھ لاکھوں فلسطینیوں کے خواب چل رہے ہیں۔ یہ لمحہ اُن سب کا ہے جو اب بھی کل پر یقین رکھتے ہیں۔”
