پاکستانی اداکار عمران اشرف اپنی پہلی بین الاقوامی پنجابی فلم "اینہ نوں رہنا سہنا نئیں آوندا” کے ذریعے عالمی سطح پر ڈیبیو کرنے جا رہے ہیں، جو 22 اگست 2025 کو دنیا بھر میں ریلیز کی جائے گی، البتہ بھارت میں فلم ریلیز نہیں کی جائے گی۔
یہ فلم کینیڈین-انڈین پنجابی پروڈکشن ہے، جسے روپن بل نے ڈائریکٹ کیا ہے جبکہ اس کی کہانی سریندر اروڑا نے تحریر کی ہے۔ فلم میں رومانس، مزاح اور ثقافتی تضادات کو مرکزی موضوع بنایا گیا ہے، جو دنیا بھر میں پنجابی بولنے والوں اور جنوبی ایشیائی تارکینِ وطن کو خاص طور پر متاثر کرے گی۔
یہ فلم ابتدائی طور پر مئی میں ریلیز ہونی تھی، تاہم علاقائی کشیدگیوں کے باعث اس میں تاخیر ہوئی۔ پروڈکشن ٹیم کے مطابق اب فلم کی نئی تاریخ 22 اگست طے کر دی گئی ہے، اور یہ پاکستان، برطانیہ، کینیڈا، امریکا اور خلیجی ممالک میں سینماؤں کی زینت بنے گی۔
فلم کی کاسٹ میں عمران اشرف کے ساتھ معروف پنجابی فنکار جسی گل، رنجیت بوا، منڈی ٹاکر، اور سپنا پببی شامل ہیں۔ فلم کی کہانی ایسے بین الاقوامی طلبا اور تارکین وطن کی زندگی پر مبنی ہے جو غیر ملکی ماحول میں اپنی شناخت اور روایات کے ساتھ جینے کی جدوجہد کرتے ہیں۔
فلم کا آفیشل ٹریلر عمران اشرف کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جاری کیا گیا، جس میں ہنسی مذاق کے ساتھ ساتھ جذباتی لمحات کو بھی دکھایا گیا ہے۔ مداحوں نے عمران اشرف کی پنجابی زبان پر مہارت اور مزاحیہ اداکاری کو خوب سراہا ہے۔
اس فلم کو پاکستان اور عالمی پنجابی فلمی صنعت کے درمیان ثقافتی پُل کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ فلم بھارت میں ریلیز نہیں ہوگی، لیکن دنیا کے ان خطوں میں جہاں پنجابی بولنے والوں کی بڑی تعداد موجود ہے، وہاں اسے مثبت پذیرائی ملنے کی توقع ہے۔
عمران اشرف، جو ڈرامہ رانجھا رانجھا کردی اور مشک جیسے کامیاب منصوبوں سے شہرت حاصل کر چکے ہیں، اس فلم کو اپنی زندگی کا "خواب کی تکمیل” قرار دیتے ہیں اور اسے پاکستان کی نمائندگی کا ایک بین الاقوامی موقع سمجھتے ہیں۔
