اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے اپنی جماعت کے قانون سازوں پر زور دیا ہے کہ وہ صوبے میں جاری فوجی آپریشنز اور ڈرون حملوں کی مزاحمت کریں اور طاقت کے بجائے امن و مذاکرات کو اپنانے کی کوشش کریں۔
جمعرات کو جیل میں اپنی بہنوں سے ملاقات کے دوران ہونے والی گفتگو کی بنیاد پر ان کے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی پوسٹس میں عمران خان نے خبردار کیا کہ اس طرح کی کارروائیاں دہشت گردی میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔ انہوں نے موجودہ صورتحال کو عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے ماضی میں فوجی آپریشنز کی حمایت کے بعد مقبولیت میں کمی سے تشبیہ دی۔
عمران خان نے افغان مہاجرین کی جبری ملک بدری کی بھی مذمت کی اور کہا کہ اس طرح کے اقدامات خطے کو مزید غیر مستحکم کر دیں گے۔
اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے اپنے خاندان بالخصوص اہلیہ بشریٰ بی بی اور بہن علیمہ خان کے خلاف مبینہ سیاسی انتقام پر کڑی تنقید کی اور ان مقدمات کو ’’ڈھونگ ٹرائلز‘‘ قرار دیا جن کا مقصد پی ٹی آئی کی پارلیمانی نشستیں چھیننا ہے۔
قائداعظم محمد علی جناح کی برسی کے موقع پر عمران خان نے جمہوری جدوجہد اور آئینی حقوق کے لیے پی ٹی آئی کے عزم کو ایک بار پھر دہرایا۔
