ورلڈ بینک نے ایک نئی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں غربت کی شرح دوبارہ بڑھ رہی ہے اور فوری عوامی فلاح پر مبنی اصلاحات نہ کی گئیں تو کمزور طبقے شدید متاثر ہوں گے اور پائیدار و جامع ترقی کے امکانات خطرے میں پڑ جائیں گے۔
"ریکلیمِنگ مومنٹم ٹوورڈز پراسپرٹی: پاکستان کی غربت، مساوات اور لچک کی تشخیص” کے عنوان سے جاری یہ رپورٹ 2000 کی دہائی کے بعد ملک میں غربت اور فلاحی رجحانات کا پہلا جامع جائزہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2001-02 میں 64.3 فیصد سے کم ہوکر 2018-19 میں 21.9 فیصد تک گرنے والی غربت کی شرح 2020 کے بعد دوبارہ بڑھنے لگی۔
ورلڈ بینک کے مطابق کورونا وبا، مہنگائی، تباہ کن سیلاب اور معاشی دباؤ نے گزشتہ برسوں میں حاصل ہونے والی کامیابیاں پلٹ دیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا کھپت پر مبنی ترقیاتی ماڈل، جو ماضی میں کارگر رہا، اب اپنی حد کو پہنچ چکا ہے۔
یہ نتائج گزشتہ 25 برسوں کے گھریلو سرویز، تخمینوں اور جغرافیائی تجزیے پر مبنی ہیں۔ سروے "ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے (HIES)” سے اخذ کیا گیا جبکہ HIES 2024-25 کا نیا ڈیٹا مزید تازہ اعدادوشمار فراہم کرے گا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ماضی میں غربت میں کمی کی بڑی وجہ زرعی شعبے سے غیر زرعی آمدنی کی طرف منتقلی تھی، جب کہ لاکھوں گھرانے خدمات کے شعبے سے وابستہ ہوئے۔ تاہم کمزور ڈھانچہ جاتی تبدیلی، روزگار کے محدود مواقع اور کم پیداواری صلاحیت نے ترقی کی رفتار روک دی ہے۔ اب بھی 85 فیصد سے زیادہ ملازمتیں غیر رسمی ہیں جبکہ خواتین اور نوجوان بڑی حد تک روزگار کی دوڑ سے باہر ہیں۔
انسانی ترقی کے محاذ پر صورتحال تشویشناک ہے: تقریباً 40 فیصد بچے غذائی کمی (stunted) کا شکار ہیں، پرائمری عمر کے ایک چوتھائی بچے اسکول سے باہر ہیں اور تین چوتھائی زیر تعلیم بچے سمجھ بوجھ کے ساتھ پڑھ نہیں سکتے۔ عوامی سہولتوں تک رسائی بھی ناکافی ہے؛ آدھے گھرانے محفوظ پینے کے پانی سے محروم ہیں جبکہ ایک تہائی کے پاس مناسب صفائی کے انتظامات نہیں۔
رپورٹ کے مطابق دیہی علاقوں میں غربت کی شرح شہری علاقوں کے مقابلے میں دوگنا سے زیادہ ہے جبکہ پسماندہ اضلاع طویل مدتی محرومی کے شکار ہیں۔ غیر منصوبہ بند شہری آبادی نے بھی کچی بستیوں اور ناقص معیارِ زندگی کو جنم دیا ہے۔
ورلڈ بینک نے "مسلسل اور عوام دوست اصلاحات” پر زور دیتے ہوئے ترقی کے لیے چار بنیادی راستے تجویز کیے ہیں: عوام اور سرکاری خدمات میں سرمایہ کاری، مقامی طرزِ حکمرانی کو مضبوط بنانا، مؤثر سماجی تحفظ کے نیٹ ورک کو وسعت دینا اور انصاف پر مبنی مالیاتی اقدامات اختیار کرنا۔ ساتھ ہی رپورٹ میں مقامی حکومتوں کے مالی وسائل کو بہتر بنانے، پسماندہ علاقوں میں ہدفی سرمایہ کاری اور اعداد و شمار کے مضبوط نظام کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔
رپورٹ کی شریک مصنف اور سینیئر ماہرِ معاشیات کرسٹینا ویزر نے کہا کہ اصلاحات کا مرکز معیاری خدمات، روزگار کے مواقع اور غریب گھرانوں کو جھٹکوں سے تحفظ فراہم کرنا ہونا چاہیے۔ جبکہ ورلڈ بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما آنگابازر نے کہا کہ پاکستان کو خواتین، نوجوانوں اور لچک بڑھانے والے اقدامات کو ترجیح دے کر اپنی پچھلی کامیابیاں محفوظ کرنی ہوں گی۔
واضح رہے کہ رواں سال جنوری میں ورلڈ بینک نے پاکستان کی شمولیتی اور پائیدار ترقی کے لیے 10 سالہ شراکت داری فریم ورک کے تحت 20 ارب ڈالر فراہم کرنے کا عہد کیا تھا
