کراچی: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں پاکستانیوں کو ویزہ حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، جب کہ کویت اور عمان میں بھی ایسے ہی مسائل درپیش ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ان تمام مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے اور جلد خوشخبری سننے کو ملے گی۔
کراچی چیمبر آف کامرس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محرم الحرام کے ابتدائی دس ایام پرامن طریقے سے گزرے، جس کا سہرا تمام صوبوں کی مؤثر کوآرڈینیشن کو جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موبائل سروسز کی بندش کو انتہائی محدود رکھا گیا تاکہ عوام کو کم سے کم پریشانی کا سامنا ہو۔
محسن نقوی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ دو برسوں میں پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی میں نمایاں بہتری آئے گی، جس پر پوری قوم کو فخر ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ بلیو پاسپورٹ کے وعدے پر بھی پیش رفت جاری ہے، اور سفری سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے پاسپورٹ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے انکشاف کیا کہ 64 بڑے ٹیکس دہندگان کو خصوصی پاسپورٹ کی پیشکش کی گئی تھی، لیکن صرف 18 افراد نے اس سے فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ نادرا سے شناختی کارڈز میں شہریوں کے مجرمانہ ریکارڈ کو شامل کرنے کے لیے بھی بات چیت جاری ہے، جب کہ سیف سٹی پروجیکٹس کی بدولت جرائم کی شرح میں کمی آئی ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کی 1,200 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی کی نگرانی کے لیے صرف چھ کوسٹ گارڈ بوٹس موجود تھیں، جن میں اب دو کا اضافہ کیا گیا ہے۔ حکومت کوسٹل سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔
اسمگلنگ پر قابو پانے، ڈالر کی بلیک مارکیٹ کے خاتمے، اور ٹیکس نظام میں اصلاحات کو وزیر داخلہ نے حکومت کی اہم ترجیحات قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ اسمگلنگ مکمل ختم نہیں ہوئی، لیکن اس میں نمایاں کمی آئی ہے جس کے اثرات معیشت پر بھی مثبت انداز میں ظاہر ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پولیس کا کام صرف گرفتاری ہے، سزا دینا عدالت کا اختیار ہے، تاہم پولیس اصلاحات کی بھی اشد ضرورت ہے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ ریاستی معاملات میں "سختی” ضروری ہے تاکہ قانون کی بالادستی قائم ہو سکے اور کوئی شخص اپنی مرضی سے نظام کو نہ چلا سکے۔
