پاکستانی ریپر طلحہ انجم کو گزشتہ ہفتے کتھمنڈو میں اپنے کنسرٹ کے دوران بھارتی جھنڈا لپیٹنے پر قانونی نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ریپر کے اس اقدام نے "ملک کے اندر اور بیرون ملک لاکھوں پاکستانی شہریوں کے قومی، حب الوطنی اور مذہبی جذبات کو شدید صدمہ اور ذہنی اذیت پہنچائی۔”
نوٹس میں مزید کہا گیا کہ طلحہ کے اقدامات نے "پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا، جہاں تاریخی تنازعات، سرحدی جھگڑے اور جاری حفاظتی خدشات کے باعث سفارتی اور فوجی تعلقات شدید دباؤ میں ہیں۔”
اتھارٹیز نے ریپر سے بلا شرط عوامی معافی کا مطالبہ کیا ہے اور خبردار کیا کہ عدم تعمیل کی صورت میں بغیر کسی مزید اطلاع کے ایف آئی آر درج کر کے مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔
طلحہ کے اس اقدام پر پاکستان میں شدید ردعمل سامنے آیا۔ ناقدین نے یاد دلایا کہ بھارتی حکام کے مطالبے پر ان کے کئی گانے یوٹیوب اور اسپوٹی فائی سے ہٹا دیے گئے تھے اور سوال کیا کہ وہ ایسے ملک کے لیے محبت کیوں دکھا رہے ہیں جہاں انہیں "بند” کیا گیا ہے۔
اس پر ردعمل دیتے ہوئے 30 سالہ ریپر نے ایک پوسٹ میں کہا:
"میرے دل میں نفرت کی کوئی جگہ نہیں۔ میری فنکارانہ تخلیق کی کوئی سرحد نہیں۔ اگر میں بھارتی جھنڈا اٹھاؤں تو تنازعہ پیدا ہوتا ہے، تو پھر بھی میں یہ کروں گا۔ میں میڈیا، جنگ پسند حکومتوں اور ان کی پروپیگنڈہ سے کبھی پرواہ نہیں کروں گا۔ اردو ریپ ہمیشہ اور ہمیشہ سرحدوں سے آزاد رہے گا۔”
یہ تنازعہ سوشل میڈیا پر زور و شور سے بحث کا موضوع بنا ہوا ہے اور اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ سرحدی معاملات اور ثقافتی علامتیں خطے کے تفریحی شعبے میں کس حد تک حساس ہیں۔
