میکسیکو سٹی/واشنگٹن، 12 اگست: میکسیکو نے امریکا کو 26 مطلوب ملزمان حوالے کر دیے ہیں جن میں بدنام زمانہ منشیات کارٹلز کے سرغنے بھی شامل ہیں۔ یہ اقدام سرحد پار منشیات اور منظم جرائم کے خلاف مشترکہ کارروائی کا حصہ ہے، امریکی اور میکسیکن حکام نے منگل کو تصدیق کی۔
امریکی محکمہ انصاف (DOJ) کے مطابق ان افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے بڑی مقدار میں کوکین، میتھ ایمفیٹامین، فینٹانائل اور ہیروئن امریکا میں اسمگل کی۔ ان پر اغوا، انسانی اسمگلنگ اور 2008 میں لاس اینجلس کاؤنٹی کے ڈپٹی شیرف کے قتل سمیت سنگین جرائم کے الزامات بھی ہیں۔
حوالہ کیے گئے ملزمان میں جالیسکو نیو جنریشن کارٹل اور سی نالوا کارٹل کے اہم رہنما شامل ہیں، جنہیں اس سال کے آغاز میں امریکا نے دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا تھا۔ ان میں لاس کوئینیس کے رہنما ابیگیل گونزالیز ویلنشیا بھی شامل ہیں، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے جنوبی امریکا سے امریکا تک ٹنوں کوکین منتقل کی، اور سی نالوا کارٹل کے لیوبارڈو گارشیا کورالیس، جن پر اسلحہ اور دھماکا خیز مواد کے بدلے فینٹانائل اسمگل کرنے کا الزام ہے۔
اسی طرح عبدالکریم کونٹے پر الزام ہے کہ انہوں نے ایران، افغانستان، صومالیہ اور قازقستان سمیت کئی ممالک سے ہزاروں تارکین وطن کو خفیہ طریقوں سے امریکا منتقل کیا، جن میں سرنگوں اور سیڑھیوں کا استعمال بھی شامل تھا۔ ایک اور ملزم، روبرتو سالازار، 2008 میں لاس اینجلس میں ڈپٹی جوان اسکالانتے کے قتل کے الزام میں مطلوب ہے۔
امریکی حکام کے مطابق تمام ملزمان کو قصوروار ثابت ہونے پر زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے، سوائے کونٹے کے، جسے 45 سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔ یہ حوالگی ایک تیز قانونی طریقہ کار کے تحت کی گئی، اور امریکا نے موت کی سزا نہ دینے کی یقین دہانی کرائی۔
امریکی سفیر رونالڈ جانسن نے اس اقدام کو دونوں ممالک کے “مشترکہ دشمنوں” کے خلاف ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔ میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینباؤم نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی بدعنوانی کے باعث بعض ڈرگ لارڈز دوبارہ آزاد ہو سکتے ہیں۔
یہ ٹرمپ کے جنوری میں دوبارہ صدر بننے کے بعد دوسرا ایسا تبادلہ ہے۔ فروری میں میکسیکو نے امریکا کو 29 مبینہ اسمگلروں کو حوالے کیا تھا، جن میں بدنام کارٹل سربراہ رافیل کارو کوئنٹرو بھی شامل تھے۔
