پاکستانی ڈرامہ میں منٹو نہیں ہوں ایک بار پھر تنازعے میں گھِر گیا ہے — اور اس بار وجہ ہے ایک ایسا منظر جس نے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کر دیا۔
ڈرامے کے حالیہ قسط میں ہمایوں سعید (جو منٹو کا کردار نبھا رہے ہیں) اپنی شاگرد مہمل (سجل علی) کے ساتھ رومانوی تعلق میں دکھائی دیتے ہیں۔ ایک منظر میں تو طالبات یہاں تک کہتی ہیں کہ اُستاد کو اپنی شاگرد سے شادی کر لینی چاہیے — اور بس، وہیں سے ناظرین کا پارہ چڑھ گیا۔
سوشل میڈیا پر صارفین نے ڈرامے کو “غیر اخلاقی”، “پریشان کن” اور “غلط پیغام دینے والا” قرار دیا۔ بیشتر کا کہنا تھا کہ ایسے مناظر ایک طاقتور اُستاد اور ناتجربہ کار شاگرد کے درمیان رشتے کو “رومانوی” بنا کر پیش کر رہے ہیں، جو انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔
انسانی حقوق کی وکیل ریما عمر نے ایک پوسٹ میں سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ کہانی “دلیرانہ نہیں بلکہ خطرناک” ہے، کیونکہ یہ ایک ایسے تعلق کو عام کرتی ہے جو اخلاقی اور قانونی دونوں لحاظ سے درست نہیں۔
اداکارہ عفت عمر نے بھی اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا کہ فنکاروں کو سوچ سمجھ کر ایسے منصوبوں کا حصہ بننا چاہیے جو سماجی اقدار سے ٹکراتے ہوں۔ بہت سے صارفین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستانی ڈرامے معاشرتی رویوں کو متاثر کرتے ہیں، اس لیے مصنفین اور پروڈیوسرز کو زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
دلچسپی کی بات یہ ہے کہ اداکارہ مائرہ سیٹھی نے بھی حال ہی میں انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے میں منٹو نہیں ہوں میں کردار کی پیشکش یہ کہہ کر مسترد کر دی تھی کہ وہ خلیل الرحمان قمر کے نظریات سے اتفاق نہیں کرتیں۔
یہ تنازعہ ایک بار پھر اُس پرانے سوال کو زندہ کر رہا ہے — پاکستانی ڈراموں میں “حد” کہاں ختم ہوتی ہے؟ خلیل الرحمان قمر ہمیشہ اپنے ڈراموں کو “سچائی کی عکاسی” قرار دیتے رہے ہیں، لیکن ناظرین کا کہنا ہے کہ اس بار وہ ایک ایسی لکیر پار کر گئے ہیں جسے پار نہیں کرنا چاہیے تھا۔
پروڈکشن ٹیم کی طرف سے تاحال کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی، مگر ردِعمل واضح ہے: ناظرین اب صرف "آرٹ کی آزادی” کا بہانہ نہیں مان رہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ڈرامہ انڈسٹری سماجی ذمہ داری کے ساتھ کہانیاں سنائے — خاص طور پر جب بات استاد اور شاگرد جیسے حساس تعلقات کی ہو۔
