پاکستان کے معروف صوفی اور قوالی گلوکار نذیر اعجاز فریدی طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ ان کی وفات کی خبر ابتدائی طور پر پاکستانی میڈیا میں سامنے آئی، جبکہ دستیاب عوامی ریکارڈ اور آن لائن مواد سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ پاکپتن شریف سے وابستہ ایک جانے پہچانے قوال تھے، جن کی شناخت خاص طور پر بابا فرید کی نسبت سے پڑھی جانے والی قوالی اور منقبت سے بنی۔
نذیر فریدی اُن فنکاروں میں شامل تھے جن کی شہرت روایتی موسیقی کی مرکزی منڈی سے کم، مگر درباروں، عرس کی محفلوں اور روحانی سماع کی دنیا میں کہیں زیادہ تھی۔ یوٹیوب اور دوسرے عوامی پلیٹ فارمز پر ان کے نام سے موجود ریکارڈنگز بتاتی ہیں کہ وہ برسوں سے صوفیانہ کلام، منقبت اور قوالی پیش کرتے رہے۔ خاص طور پر بابا فرید سے منسوب محافل میں ان کی موجودگی کے شواہد نمایاں طور پر ملتے ہیں۔
ان کے نام کے ساتھ “نذیر اعجاز فریدی قوال” اور پاکپتن شریف کی نسبت بار بار سامنے آتی ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی فنّی شناخت اسی روحانی اور ثقافتی دائرے میں پروان چڑھی۔ پرانے اور نئے دونوں طرح کے مواد میں ان کا نام اس انداز سے محفوظ ہے کہ یہ محض ایک گلوکار نہیں بلکہ ایک جاری روایت کے نمائندہ محسوس ہوتے ہیں۔
نذیر فریدی کی آواز اُن سامعین میں خاص طور پر مقبول تھی جو صوفی کلام کو صرف موسیقی نہیں، عقیدت اور نسبت کے ساتھ سنتے ہیں۔ ان کی کئی محفلیں اور قوالیاں اب بھی آن لائن گردش میں ہیں، جن سے ان کے فن کے تسلسل اور سامعین کے ساتھ تعلق کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ کچھ ریکارڈنگز نسبتاً حالیہ عرصے تک سامنے آتی رہیں، جس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ حالیہ برسوں تک اس روایت کا سرگرم حصہ رہے۔
تاحال ان کی علالت کی نوعیت، نمازِ جنازہ یا اہلِ خانہ کے تفصیلی بیان سے متعلق معلومات بڑے پیمانے پر دستیاب نہیں ہو سکیں۔ اسی لیے اس خبر کو احتیاط سے، دستیاب رپورٹوں اور عوامی ریکارڈ کی بنیاد پر بیان کرنا ضروری ہے۔ تاہم یہ بات واضح ہے کہ نذیر فریدی اپنے پیچھے صوفی موسیقی اور قوالی کی ایک قابلِ قدر آواز چھوڑ گئے ہیں، جسے ان کے مداح اور سماع کی روایت سے وابستہ حلقے دیر تک یاد رکھیں گے۔
