لاہور: پاکستان کی معروف ماہرِ تعلیم، دانشور اور سماجی مصلح ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرہ پیر کے روز انتقال کر گئیں۔ ان کے انتقال سے علمی و فکری دنیا میں ایک بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے۔
ڈاکٹر زہرہ نے اپنی زندگی تعلیم، خواتین کے حقوق اور ثقافتی ورثے کے فروغ کے لیے وقف کی۔ وہ لاہور کالج فار ویمن اور گورنمنٹ کالج فار ویمن، گلبرگ کی پرنسپل رہیں اور بعد ازاں فارمن کرسچن کالج میں پروفیسر ایمیریٹس کے طور پر خدمات انجام دیں۔
انہوں نے لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے تعلیم حاصل کی اور یونیورسٹی آف ہوائی سے تاریخ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ان کی علمی دلچسپیاں اردو ادب، اخلاقیات اور فکری تاریخ کے گرد گھومتی رہیں۔
ڈاکٹر زہرہ نے مختلف قومی عہدوں پر خدمات انجام دیں، جن میں وزیراعظم کی مشیر برائے تعلیم و قومی ہم آہنگی اور قومی کمیشن برائے حیثیتِ خواتین کی چیئرپرسن کے عہدے شامل ہیں۔
بطور یونیسکو چیئر برائے ثقافتی ورثہ، انہوں نے پاکستان کے ادبی اور فکری ورثے کے تحفظ کے لیے گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔
ان کی جرات مندانہ گفتگو، مدلل لیکچرز اور بصیرت افروز خیالات نے کئی نسلوں کو تعلیم، اخلاقیات اور شہری ذمہ داریوں کی اہمیت سے روشناس کرایا۔ ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرہ کی علمی و سماجی خدمات پاکستان کے فکری منظرنامے پر ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
