امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ واشنگٹن نائجیریا میں عیسائیوں کے “بڑے پیمانے پر قتل عام” کو روکنے کے لیے فوجی دستے بھیجنے یا فضائی حملے کرنے پر غور کر سکتا ہے۔
واشنگٹن واپسی کے دوران ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، “نائجیریا میں عیسائیوں کو ریکارڈ تعداد میں مارا جا رہا ہے، ہم ایسا ہونے نہیں دیں گے۔”
ان کے یہ ریمارکس اس وقت سامنے آئے جب امریکی حکومت نے نائجیریا کو مذہبی آزادی کی مبینہ خلاف ورزیوں پر دوبارہ “خصوصی تشویش والے ممالک” کی فہرست میں شامل کر لیا۔ اس فہرست میں چین، شمالی کوریا، روس اور پاکستان بھی شامل ہیں۔ ٹرمپ نے قبل ازیں خبردار کیا تھا کہ اگر نائجیریا کی حکومت تشدد پر قابو نہ پا سکی تو امریکہ عسکری کارروائی پر غور کرے گا۔
نائجیریا کے صدارتی مشیر ڈینیئل بوالا نے ردعمل میں کہا کہ ابوجا امریکی تعاون کا خیر مقدم کرتا ہے لیکن ملکی خودمختاری کا احترام لازمی ہے۔ انہوں نے رائٹرز سے گفتگو میں کہا، “ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کو ایک مضبوط شراکت دار سمجھتے ہیں، لیکن اپنی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے پابند ہیں۔” انہوں نے ٹرمپ کے بیان کو سیاسی نعرہ بازی قرار دیتے ہوئے کہا کہ “نائجیریا میں کوئی عیسائی نسل کشی نہیں ہو رہی، ہم ہر قسم کی بدامنی کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کرتے ہیں۔”
دو کروڑ آبادی والے نائجیریا میں شمالی حصے میں مسلم اکثریت جبکہ جنوبی علاقوں میں عیسائی اکثریت پائی جاتی ہے۔ ملک طویل عرصے سے بوکو حرام اور داعش سے منسلک شدت پسندوں کے حملوں کا شکار ہے جن میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ عیسائی کمیونٹی بھی متاثر ہوئی ہے لیکن زیادہ تر حملوں کا نشانہ مسلمان بنے ہیں۔
مرکزی علاقوں میں مسلم چرواہوں اور عیسائی کسانوں کے درمیان زمین اور پانی کے تنازعات نے کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے، جبکہ شمال مغربی خطے میں اغوا برائے تاوان کی وارداتیں مسلسل جاری ہیں۔
دوسری جانب، ٹرمپ نے یوکرین سے متعلق سوال پر واضح کیا کہ وہ کیف کو روس کے اندر گہرائی تک مار کرنے والے طویل فاصلے کے ٹام ہاک میزائلز دینے پر سنجیدگی سے غور نہیں کر رہے۔ انہوں نے کہا، “نہیں، فی الحال ایسا کوئی ارادہ نہیں۔” ماسکو نے خبردار کیا تھا کہ ایسا اقدام بڑی اشتعال انگیزی سمجھا جائے گا۔
ٹرمپ نے یہ بھی تصدیق کی کہ وہ اپنے عالمی محصولات (ٹیرِفز) سے متعلق آئندہ سپریم کورٹ کی سماعتوں میں شریک نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا، “میں بہت جانا چاہتا تھا، مگر یہ فیصلہ ملک کے مفاد کا معاملہ ہے، میری ذات کا نہیں۔”
یہ کیس 1977ء کے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ کے تحت ٹرمپ کے صدارتی اختیارات کے استعمال کا اہم امتحان سمجھا جا رہا ہے۔ انہوں نے اپنے محصولات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان پالیسیوں سے قومی سلامتی مضبوط ہوئی اور امریکی آمدن میں اضافہ ہوا۔ “اگر ہمارے پاس محصولات نہیں ہوں گے، تو ہماری قومی سلامتی بھی نہیں ہوگی،” ٹرمپ نے زور دیتے ہوئے کہا۔
