اکستان کے معروف ٹی وی اینکرز شہزیب خانزادہ اور تابش ہاشمی نے حال ہی میں ایک کھلے دل سے گفتگو کے دوران اپنے اسکول کے دنوں میں جسمانی سزا کے تجربات شیئر کیے، جنہیں انہوں نے ایک طرح کی “ٹریوما بانڈنگ (Trauma Bonding)” قرار دیا — یعنی ایک ایسا تعلق جو مشترکہ دکھ کے ذریعے قائم ہوتا ہے۔
شہزیب خانزادہ نے بچپن کا ایک واقعہ یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ایک بار انہیں محض سوال کرنے پر استاد نے پوری کلاس کے سامنے تھپڑ مارا۔ انہوں نے کہا: “میں اُس دن روتا ہوا گھر گیا، میری ماں نے تسلی دی، لیکن وہ احساس آج تک نہیں بھولا۔”
دوسری جانب، تابش ہاشمی نے بتایا کہ وہ بھی اکثر بلاوجہ یا معمولی باتوں پر مار کھاتے رہے۔ انہوں نے کہا: “تب ہمیں لگتا تھا کہ یہ سب نارمل ہے، مگر اب سمجھ آتا ہے کہ یہ سب کچھ ہماری نفسیات اور اعتماد پر کتنا گہرا اثر چھوڑ گیا۔”
ان دونوں اینکرز کی گفتگو نے سوشل میڈیا پر زبردست بحث چھیڑ دی، جہاں لوگوں نے اپنے اسکول کے دنوں کے تجربات شیئر کرتے ہوئے جسمانی سزا کے نفسیاتی اثرات پر بات کی۔
ماہرینِ تعلیم اور والدین کی جانب سے بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں جسمانی سزا پر مؤثر پابندی لگائی جائے اور اساتذہ کی تربیت کو بہتر بنایا جائے تاکہ بچوں کے ساتھ زیادہ رحم دل اور مثبت رویہ اپنایا جا سکے۔
شہزیب خانزادہ اور تابش ہاشمی نے اس گفتگو کے ذریعے ایک اہم سماجی مسئلے کو اجاگر کیا — کہ بچپن کا تشدد اکثر انسان کے ذہن اور شخصیت میں برسوں تک نقش رہتا ہے۔
