بھارتی فلم دھریندر میں لیاری کی مبینہ منفی عکاسی کے خلاف لیاری کے عوام اور سماجی حلقوں کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔ “میرا لیاری” کے نام سے شروع ہونے والی اس آواز میں مقامی افراد نے فلم پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے ایک زندہ، متحرک اور تاریخی علاقے کو یک رُخی اور دقیانوسی انداز میں پیش کیا۔
فلم کی ریلیز کے بعد سوشل میڈیا پر بحث کا آغاز ہوا جہاں لیاری کے نوجوانوں، سماجی کارکنوں اور فنکاروں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ لیاری صرف جرائم اور تشدد کی علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلم نے لیاری کی اصل پہچان، ثقافتی ورثے اور سماجی جدوجہد کو نظرانداز کیا۔
لیاری کو کراچی کا دل کہا جاتا ہے جہاں سے قومی سطح کے فٹبالرز، باکسرز، موسیقار اور سیاسی رہنما سامنے آئے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ فلمی بیانیے میں ان کامیابیوں کو نظرانداز کرنا علاقے کے ساتھ ناانصافی ہے۔
ردِعمل کے طور پر “میرا لیاری” کے عنوان سے ڈیجیٹل مہم شروع کی گئی جس میں لیاری کی حقیقی کہانیاں، پرانی تصاویر اور نمایاں کامیابیاں شیئر کی گئیں۔ اس مہم کے ذریعے عوام نے یہ پیغام دیا کہ لیاری محض ایک فلمی کردار نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے۔
شہری حلقوں نے زور دیا کہ فلم سازی محض تفریح نہیں بلکہ رائے عامہ پر اثر انداز ہونے والا عمل ہے، اور کسی بھی علاقے کو بغیر تحقیق منفی انداز میں پیش کرنا سماجی تعصب کو بڑھا سکتا ہے۔
جاری بحث کے دوران “میرا لیاری” ایک نعرے سے بڑھ کر شناخت، خودداری اور مزاحمت کی علامت بن چکا ہے، جو اس بات کی یاد دہانی ہے کہ لیاری کی کہانی اسکرین پر دکھائی گئی تصویر سے کہیں زیادہ وسیع اور باوقار ہے۔
