ٹک ٹاکر ثناء یوسف کے قتل کیس میں گرفتار ملزم عمر حیات کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا گیا ہے۔ مقدمے کی سماعت اسلام آباد کی جوڈیشل مجسٹریٹ محمد حفیظ کی عدالت میں ہوئی۔
استغاثہ کی جانب سے ملزم کے مزید جسمانی ریمانڈ کی درخواست نہیں کی گئی، اور پولیس نے ملزم کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد عدالت میں پیش کیا۔ سماعت کے دوران ملزم کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ کیس کی میڈیا پر بڑھتی ہوئی شہرت کی وجہ سے ملزم کو اپنے والدین سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، جو کہ ان کا قانونی اور انسانی حق ہے۔ عدالت نے اس پر کہا کہ ملزم کو جیل بھجوایا جا چکا ہے، ملاقات کے لیے جیل حکام سے رابطہ کیا جائے۔
یاد رہے کہ چند روز قبل اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے ملزم عمر حیات کا مزید تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا۔ اس سے قبل، ملزم کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ حفیظ احمد کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کا زیر استعمال گاڑی برآمد ہو چکی ہے اور ان کے موبائل فون کی برآمدگی بھی ضروری ہے۔
پراسیکیوٹر راجہ نوید کا کہنا تھا کہ ملزم انتہائی چالاک ہے اور جرم کی سنگینی کو سمجھتا ہے، جس کی وجہ سے وہ موبائل فون فراہم کرنے میں تعاون نہیں کر رہا تھا۔ تاہم، عدالت نے پولیس کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ملزم کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں کیس کی سماعت جاری ہے، اور پولیس ملزم سے مزید تفتیش کر رہی ہے
