اسلام آباد — حکومت نے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر عائد ڈیوٹیز میں نمایاں کمی لانے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد مقامی کار ساز کمپنیوں کی اجارہ داری کو ختم کرنا اور گاڑیوں کی قیمتوں میں مصنوعی اضافے کو روکنا ہے۔ وزارت صنعت و پیداوار اس نئی آٹو پالیسی کے حتمی مسودے کو حتمی شکل دے رہی ہے۔ پالیسی کا بنیادی ہدف ان گاڑیوں کی قیمتوں کو کم کرنا ہے جو گزشتہ چند برسوں میں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔ مقامی اسمبلرز کو طویل عرصے سے تنقید کا سامنا ہے کہ وہ پیداوار کم رکھ کر قیمتیں بلند سطح پر برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ حکومت کا ماننا ہے کہ درآمدی گاڑیوں پر ٹیکسوں میں نرمی سے مارکیٹ میں مسابقت پیدا ہوگی، جس سے مقامی کمپنیوں کو اپنی قیمتوں پر نظر ثانی کرنا پڑے گی۔ ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار نے معاملے کی حساسیت کے پیش نظر نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ موجودہ مارکیٹ کا ڈھانچہ صارفین کے مفاد میں نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ درآمدات کے دروازے کھولنا ہی قیمتوں کو درست سطح پر لانے کا فوری حل ہے۔ دوسری جانب، مقامی مینوفیکچررز نے اس حکومتی منصوبے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ ڈیوٹیز میں کمی سے قیمتی زرمبادلہ بیرون ملک منتقل ہوگا اور "میڈ ان پاکستان” کے بیانیے کو نقصان پہنچے گا۔ پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹیو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز (PAAPAM) نے خبردار کیا ہے کہ پرانی گاڑیوں کی بھرمار سے مقامی سطح پر پرزہ جات بنانے والے چھوٹے وینڈرز کا کاروبار ٹھپ ہو سکتا ہے۔ معاشی ماہرین اس فیصلے کو ایک بڑا جوا قرار دے رہے ہیں۔ ایک طرف یہ اقدام ان خریداروں کے لیے ریلیف لائے گا جو مقامی گاڑیوں پر بھاری پریمیم ادا کرنے سے عاجز آ چکے ہیں، تو دوسری طرف یہ مقامی سطح پر آٹو پارٹس سازی کے طویل مدتی اہداف کو متاثر کر سکتا ہے۔ یہ پالیسی آئندہ کابینہ کے اجلاسوں میں سخت بحث کا مرکز بنے گی۔ کیا یہ اقدام گاڑیوں کی قیمتوں میں مستقل کمی لائے گا یا پھر صرف درآمدات میں وقتی اضافے کا باعث بنے گا، یہ سوال اب بھی آٹو سیکٹر کے لیے سب سے بڑی تشویش بنا ہوا ہے۔ فی الحال حکومت کا یہ ماننا ہے کہ ایک آزاد مارکیٹ ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے اس صنعت کو جھنجھوڑا جا سکتا ہے، جو برسوں سے عام خریدار کو کوئی ریلیف دینے میں ناکام رہی ہے۔
