اسلام آباد: پاکستان کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ حاضر سروس بھارتی فوجی افسران اور غیر قانونی افغان باشندے ملک کے اندر دہشت گردی اور سنگین جرائم میں براہِ راست ملوث ہیں۔
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے 5 ستمبر کو ایک بین الاقوامی میڈیا انٹرویو میں کہا کہ پاکستان کے پاس ’’قابلِ اعتماد شواہد‘‘ موجود ہیں جو بھارتی ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کو ثابت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد یہ شواہد عالمی برادری کے ساتھ بارہا شیئر کر چکا ہے۔
چوہدری نے واضح کیا کہ پاکستان نے گزشتہ چار دہائیوں سے زائد عرصے تک لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی ہے اور انہیں انسانی بنیادوں پر قیام کی اجازت دی، لیکن اب وہ بنیادی وجوہات غیر ملکی مداخلت اور خانہ جنگی موجود نہیں رہیں۔
بھارت پر عدم استحکام پھیلانے کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کے اندر پرتشدد واقعات انتہا پسندانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہیں، مگر نئی دہلی ان کا الزام اپنے ہمسایوں پر تھوپنے کی کوشش کرتا ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ بھارتی ادارے، بشمول فوج، انتہا پسند سیاسی نظریات کے زیرِ اثر ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کا اصولی مؤقف یہ ہے کہ کسی غیر ریاستی عنصر کو جہاد کا اعلان کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا: ’’پاکستان میں کسی ملیشیا یا مسلح گروہ کے لیے کوئی جگہ نہیں۔‘‘ انہوں نے دوٹوک کہا کہ پاکستان ہر قسم کی عسکریت پسندی کو بلا امتیاز مسترد کرتا ہے۔
علاقائی سلامتی کے چیلنجز پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد وہاں چھوٹے بڑے ہتھیار چھوڑ دیے گئے جو اب دہشت گرد حملوں میں استعمال ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس رجحان پر خود واشنگٹن بھی تشویش کا اظہار کر چکا ہے۔
انہوں نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں پاک بھارت کشیدگی کے دوران انہوں نے ثالثی کی کوشش کی تھی، جبکہ پاکستان کے چین کے ساتھ ’’مضبوط اور اسٹریٹجک تعلقات‘‘ قائم ہیں۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ امریکا نے حال ہی میں کالعدم ’’مجید بریگیڈ‘‘ کو عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں مارے جانے والے کئی شدت پسند، جو ’’فتنۂ ہندوستان‘‘ کا حصہ تھے، پہلے لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل تھے۔
چوہدری نے آخر میں عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل میں کردار ادا کرے، کیونکہ ان کے بقول خطے میں پائیدار امن اس مسئلے کے حل کے بغیر ممکن نہیں۔
