بالی وڈ کے سینئر اداکار پریش راول اپنی نئی فلم دی تاج اسٹوری کے موشن پوسٹر کے بعد شدید تنازع میں گھر گئے ہیں۔
پوسٹر میں انہیں تاج محل کا گنبد اُٹھاتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جس کے نیچے ایک بھگوان شیو کی مورتی نمایاں ہوتی ہے۔ یہ منظر اور اس کے ساتھ درج جملہ —
“اگر آپ کو سکھائی گئی ہر بات جھوٹ ہو تو؟… حقیقت جاننے کا وقت آ گیا ہے۔”
نے سوشل میڈیا پر طوفان مچا دیا۔
سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل
پوسٹر سامنے آتے ہی سوشل میڈیا صارفین نے فلم پر الزام عائد کیا کہ یہ “تاریخ کو مسخ کرنے” اور “فرقہ وارانہ بیانیہ” پھیلانے کی کوشش ہے۔
بہت سے صارفین نے پریش راول سے مایوسی کا اظہار کیا، یہ کہتے ہوئے کہ ایک سینئر فنکار کو ایسی متنازعہ مہم کا حصہ نہیں بننا چاہیے تھا۔
ایک صارف نے لکھا:
“یہ کہانی نہیں، تاریخ کا بگاڑ ہے۔”
جبکہ دوسرے نے کہا:
“تاریخ کے نام پر نفرت بیچنا فن نہیں۔”
دوسری جانب، فلم کے حامیوں کا کہنا ہے کہ دی تاج اسٹوری “چھپائے گئے حقائق” کو سامنے لانے کی جراتمندانہ کوشش ہے، اور “سچ کی کھوج” کو روایتی تاریخ سے الگ زاویے سے پیش کرے گی۔
فلم سازوں اور پریش راول کا مؤقف
تنازع بڑھنے پر فلم کے پروڈیوسرز نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ دی تاج اسٹوری “کسی مذہب یا عقیدے پر مبنی نہیں” بلکہ “تاریخی حقائق اور کم معروف پہلوؤں” کو فلمی انداز میں دکھانے کی کوشش ہے۔
پریش راول نے خود بھی دفاع کرتے ہوئے کہا:
“ہم تاریخ پر حملہ نہیں کر رہے، صرف اسے تلاش کر رہے ہیں۔ لوگ فلم دیکھنے کے بعد خود فیصلہ کریں۔”
ان کا کہنا تھا کہ فلم “بھارت کی تاریخ کے ایک ایسے باب” کو اجاگر کرے گی جس پر بات کرنے سے لوگ ہچکچاتے ہیں۔
سنسر بورڈ کی تحقیقات
ذرائع کے مطابق سنٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن (CBFC) نے فلم پر گہری نظر رکھتے ہوئے فلم سازوں سے کہا ہے کہ وہ تاریخی شواہد اور دستاویزات پیش کریں تاکہ فلم میں کیے گئے دعووں کی تصدیق کی جا سکے۔
سنسر بورڈ کو خدشہ ہے کہ یہ فلم مذہبی حساسیت کو بھڑکا سکتی ہے، خاص طور پر جب بات تاج محل جیسے عالمی ورثے کی ہو جو محض ایک عمارت نہیں بلکہ ایک ثقافتی علامت ہے۔
ماہرینِ تاریخ کا ردِعمل
تاریخ دانوں نے فلم کے دعووں کو “بے بنیاد اور فرضی” قرار دیا ہے۔
ان کے مطابق ایسے نظریات پہلے بھی سامنے آ چکے ہیں — مثلاً مصنف پی۔ این۔ اوک کے دعوے — جنہیں عدالتوں اور ماہرین نے ثبوت کی کمی کی وجہ سے مسترد کیا۔
آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (ASI) کے مطابق تاج محل مغل بادشاہ شاہجہاں نے اپنی اہلیہ ممتاز محل کی یاد میں تعمیر کروایا تھا، اور اس کے نیچے کسی مندر کے آثار موجود ہونے کے دعوے محض مفروضے ہیں۔
ایک ماہرِ تاریخ نے کہا:
“یہ افسوسناک ہے کہ سینما کو جھوٹی تاریخ پھیلانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ تاج محل محبت، فن اور حسن کی علامت ہے — ظلم یا نسل کشی کی نہیں۔”
بڑا سوال — تاریخ یا سیاست؟
دی تاج اسٹوری ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارت میں تاریخ، مذہب اور شناخت کے موضوعات پہلے ہی شدید تنازع کا شکار ہیں۔
کچھ لوگوں کے نزدیک یہ فنکارانہ آزادی کی مثال ہے، تو کچھ کے نزدیک یہ “تاریخ کے نام پر سیاست” کا نیا طریقہ۔
جو بھی ہو، فلم ریلیز ہونے سے پہلے ہی خبروں میں آ چکی ہے — اور شاید یہی وہ چیز ہے جو کسی بھی فلم ساز کے لیے سب سے بڑی کامیابی ہوتی ہے۔
