پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز کی زیرِ صدارت لاہور میں ہونے والے کابینہ اجلاس میں صوبے بھر کے سرکاری اسکولوں کے لیے اسکول ٹیچر انٹرنز بھرتی کرنے کی منظوری دے دی گئی، تاکہ تعلیمی شعبے کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
عوامی ریلیف کے تحت کابینہ نے ملتان، راولپنڈی اور لاہور میں الیکٹرک بسوں کے کرایوں میں اضافے کی تجویز مسترد کر دی۔ اس کے بجائے الیکٹرک بس نیٹ ورک کے فروغ کے لیے پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی کو مختلف شہروں میں ای بس ڈپو قائم کرنے کے لیے گرانٹس دینے کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف امویبل پراپرٹی آرڈیننس 2025 اور چیف منسٹر ہائی ٹیک فارَم مکینائزیشن فنانس پروگرام کے تحت سبسڈی اسکیم کی بھی منظوری دی گئی، جس کا مقصد زرعی سہولیات میں اضافہ کرنا ہے۔
ٹریفک نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے کابینہ نے ٹریفک جرمانہ اور پوائنٹ سسٹم کی منظوری دی۔ اجلاس میں نیشنل بینک پارک میں میوزیم اور میموریل بنانے کے لیے فنڈز مختص کیے گئے، جبکہ لاہور میوزیم کی بحالی اور اپ گریڈیشن کے ماسٹر پلان کی منظوری بھی دی گئی۔
دیگر فیصلوں میں گرین پاکستان پروگرام کے لیے فنڈز کی دوبارہ تقسیم، یونیورسٹی آف حافظ آباد کے قیام، اور صارفین کے حقوق کے بہتر نفاذ کے لیے پنجاب کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ کے تحت ضلعی سطح کے حکام کو بااختیار بنانا شامل تھا۔
