وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنداپور نے اتوار کے روز واضح کیا کہ سینیٹ کی نشستوں کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان طے پانے والا معاہدہ بدستور قائم ہے، اگرچہ پارٹی کے بعض ناراض امیدوار اس پر اعتراض کر رہے ہیں۔
گنداپور نے یہ بات ایک اجلاس کے بعد کہی جس میں اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباداللہ، اسپیکر بابراسلیم سواتی اور دیگر حکومتی و اپوزیشن ارکان شریک تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ صوبے کے وسیع تر مفاد میں کیا گیا ہے اور اسے مکمل طور پر نافذ کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والے ارکان گورنر ہاؤس میں حلف اٹھائیں گے، جیسا کہ پشاور ہائی کورٹ نے حکم دیا ہے۔ ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ اس وقت دیا جب اسپیکر نے کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے اجلاس 24 جولائی تک ملتوی کر دیا تھا۔
انہوں نے کہا، "یہ اتحاد صرف سینیٹ انتخابات تک محدود ہے۔” گنداپور نے دونوں فریقین کے درمیان مکمل دیانتداری کی یقین دہانی کراتے ہوئے پارٹی کے ان ناراض امیدواروں پر تنقید کی جنہوں نے قیادت کے احکامات کو نظرانداز کیا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ ایسے امیدواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی جو نامزدگی واپس لینے سے انکار کر کے پارٹی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ گنداپور نے واضح کیا، "عمران خان کے فیصلوں کو مسترد کرنا پارٹی کے بانی کی مخالفت کے مترادف ہے۔”
معاہدے کے مطابق پی ٹی آئی سینیٹ کی چھ نشستیں حاصل کرے گی جبکہ اپوزیشن کو پانچ نشستیں دی جائیں گی۔ تاہم پانچ امیدوار جن میں عرفان سلیم، خرم ذیشان، وقاص اورکزئی، سید ارشاد حسین اور عائشہ بانو شامل ہیں، پارٹی ہدایت کے باوجود انتخابی میدان سے دستبردار ہونے سے انکاری ہیں۔
گنداپور نے کہا کہ یہی حکمت عملی پنجاب میں بھی اپنائی گئی تھی اور یہ فیصلے سابق وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر کیے گئے ہیں، جو اس وقت جیل میں ہیں۔
