خیبر پختونخوا میں سینیٹ انتخابات سے قبل پی ٹی آئی کے ناراض رہنماؤں نے پارٹی کی ہدایت ماننے سے انکار کرتے ہوئے الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ خرم ذیشان، عرفان سلیم اور عائشہ بانو نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کریں گے اور کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے۔
خرم نے پارٹی قیادت پر اپوزیشن سے اتحاد کا الزام لگاتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا یہی وہ ویژن تھا جو عمران خان نے دیا تھا؟ عرفان سلیم نے بھی نظام کو "ناکام” قرار دیتے ہوئے مقابلے میں ڈٹے رہنے کا اعلان کیا۔
دوسری جانب پی ٹی آئی قیادت نے چھ امیدواروں پر اتفاق کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ اپوزیشن کے ساتھ مل کر بغیر مقابلہ سینیٹ انتخابات کروائے جائیں گے۔ لیکن ناراض گروپ کی بغاوت نے یہ معاہدہ خطرے میں ڈال دیا ہے۔
پیپلز پارٹی کے رہنما طلحہ محمود کے مطابق اگر ناراض امیدوار پیچھے نہ ہٹے تو حکومت اور اپوزیشن مشترکہ طور پر الیکشن میں حصہ لیں گے۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور، جے یو آئی، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے رہنما بھی شریک تھے۔
چیئرمین پی ٹی آئی گوہر علی خان نے انتباہ دیا ہے کہ پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
