ڈیرہ غازی خان، 12 اگست: تونسہ شریف میں پیش آنے والے ایک دلخراش واقعے میں تین کم سن بھائی پراسرار حالات میں جاں بحق ہوگئے۔ مرحوم بچوں کے والد، خواجہ غیاث اللہ، نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے بیٹوں کو زہر دے کر قتل کیا گیا، جن کی عمریں ایک سے چار سال کے درمیان تھیں۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ خاندان میں جائیداد کا تنازع موجود تھا جو ممکنہ طور پر اس واقعے کی وجہ بن سکتا ہے۔
ہسپتال حکام کے مطابق، ایک سالہ محمد عمر تونسہ شریف تحصیل ہیڈکوارٹر (THQ) ہسپتال میں دم توڑ گیا، جبکہ اس کے دو بھائی، دو سالہ غلام محمد اور چار سالہ معین الدین، کو ملتان کے چلڈرن ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ بھی جانبر نہ ہو سکے۔ تینوں بچوں کو ابتدائی طور پر THQ ہسپتال لایا گیا تھا۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (DPO) طارق ولایت نے متاثرہ خاندان کے گھر جا کر واقعے کی تفصیلات حاصل کیں۔ والد کے بیان کی روشنی میں پولیس نے تعزیرات پاکستان کی دفعات 302 اور 324 کے تحت مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ بچوں کے جسد خاکی کے نمونے فرانزک لیب بھیج دیے گئے ہیں۔
بچوں کی نماز جنازہ دربار عالیہ سلیمانیہ میں ادا کی گئی، جس میں عوام کی بڑی تعداد، پولیس اور انتظامیہ کے افسران نے شرکت کی۔
ایک علیحدہ واقعے میں، بستی جمنہ چانڈیا کے علاقے میں 13 سالہ لڑکی رابعہ اور ایک شخص شفقت کو مخالف گروہ کے افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ پولیس کے مطابق، پرانی دشمنی کے باعث ملزمان فیاض سجاد اور ریاض نے کھیتوں میں کھاد ڈالنے کے دوران فائرنگ کی۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس کارروائی جاری ہے۔
