راچی: آرٹس کونسل آف پاکستان (اے سی پی) کراچی میں جمعہ کی شام رنگوں، موسیقی اور خوشبوؤں کا ایک حسین امتزاج نظر آیا، جب ورلڈ کلچر فیسٹیول 2025 کا باقاعدہ آغاز ہوا۔
دنیا کے 140 سے زائد ممالک کے فنکار ایک ہی مقصد کے تحت اکٹھے ہوئے — “امن کے لیے ثقافت، اور فاصلے مٹانے کے لیے تبادلہ”۔
یہ تقریب صرف ایک شو نہیں تھی؛ یہ اس یقین کا اعلان تھی کہ جب سیاست ناکام ہوجائے، تو فنکار اب بھی دنیا کو جوڑ سکتے ہیں۔
دنیا کراچی میں جمع
یہ میلہ 7 دسمبر تک جاری رہے گا، اور پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ثقافتی ایونٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ افتتاحی رات میں نیپال، بیلجیئم، شام، بنگلہ دیش سمیت درجنوں ممالک کے فنکاروں نے شرکت کی۔
پاکستانی آرٹسٹ امین گل جی کی پرفارمنس “دی گیم” نے تقریب کا آغاز کیا، جس کے بعد بلوچی روایتی رقص لیوا نے ماحول کو مزید گرمادیا۔
فرانسیسی سنتور نواز زکریا حفر اور پاکستانی بانسری نواز اکبر خمیسو خان نے مشرق و مغرب کی دھنوں کو ایک ساتھ باندھ دیا۔
امریکی گروپ بیلیٹ بیونڈ بارڈرز اور کروم لُوئی نے اپنے رقص سے ناظرین کو محظوظ کیا، جبکہ جنوبی کوریا کی فلم پلاسٹک اور کیریباتی کی لو نوٹ ٹو این آئی لینڈ نے ماحولیات اور انسانی رشتے کے موضوعات کو اجاگر کیا۔
"جہاں سیاست ناکام ہو، وہاں فن بات کرتا ہے”
اے سی پی کے صدر محمد احمد شاہ نے افتتاحی خطاب میں کہا:
"فن اب بھی وہاں بولتا ہے جہاں سیاست خاموش ہو جاتی ہے۔ یہ فیسٹیول صرف تفریح نہیں، مکالمے اور امن کا ذریعہ ہے۔”
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے تقریب کے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے کہا کہ “کراچی غیر متوقع، زندہ دل اور ثقافتی طور پر مالا مال شہر ہے۔”
انہوں نے مزید کہا، “گزشتہ سال یہ فیسٹیول 44 ممالک کے ساتھ شروع ہوا تھا، اور آج یہ 140 سے زائد ممالک تک پہنچ چکا ہے۔ یہی کراچی کی پہچان ہے — متنوع مگر پرامید۔”
اس فیسٹیول کی اصل روح
اس سال کا فیسٹیول محض فنکارانہ نمائش نہیں بلکہ ایک ثقافتی سفارت کاری کی مثال ہے۔
احمد شاہ کے مطابق، “ہمارا مقصد صرف آرٹ دکھانا نہیں، بلکہ دنیا کو پاکستان کا نرم اور مثبت چہرہ پیش کرنا ہے۔ ہر فنکار امن کی عالمی کہانی کا ایک حصہ ہے۔”
رنگ، روشنی اور مقصد کے ساتھ
فیسٹیول کے دوران ہر ہفتے ایک مخصوص خطے کی ثقافت کو پیش کیا جائے گا — ایشیا، یورپ، افریقہ اور امریکا کے فنکار اپنے اپنے انداز میں امن، ماحولیات اور ثقافتی ہم آہنگی کے پیغام کو اجاگر کریں گے۔
نمائش “Peace & Pieces” پہلے ہی آغاز کر چکی ہے، جس میں فن کے ذریعے امن اور ماحولیاتی شعور کو نمایاں کیا جا رہا ہے۔
افتتاحی تقریب میں آسٹریلیا، فرانس، جاپان، متحدہ عرب امارات، ترکی، سری لنکا، روس اور بنگلہ دیش کے سفیروں نے بھی شرکت کی — ایک ایسا منظر جس نے ثابت کیا کہ فن واقعی سرحدوں سے آزاد ہے۔
اہمیت — ایک مختلف کہانی
ایمانداری سے کہا جائے تو کراچی اکثر خبروں میں اپنے مسائل کے باعث آتا ہے۔ مگر یہ فیسٹیول ایک نیا رخ دکھا رہا ہے — تخلیق، برداشت اور امید کا۔
یہاں عالمی فنکار مقامی ہنرمندوں کے ساتھ کھڑے ہیں، صدیوں پرانی روایات جدید فنون سے گلے مل رہی ہیں۔ یہ سب کچھ کبھی تھوڑا شور والا لگتا ہے، کبھی بے ترتیب — مگر یہی تو کراچی کی خوبصورتی ہے۔
آگے کیا؟
ورلڈ کلچر فیسٹیول 2025 7 دسمبر تک جاری رہے گا، جس کے اختتام پر ایک شاندار عالمی تقریب متوقع ہے۔
تب تک، کراچی والوں اور بیرونی مہمانوں کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ دنیا کی ثقافت کو ایک ہی چھت تلے محسوس کریں — موسیقی، رقص، فلم، یا مصوری کی صورت میں۔
یہ فیسٹیول صرف ایک ایونٹ نہیں، بلکہ یاد دہانی ہے کہ دنیا ابھی بھی ایک دوسرے کو سن سکتی ہے — اگر ہم دل سے بات کریں۔
