کراچی، 12 اگست: کراچی میں اسٹریٹ کرائمز کی لہر بدستور برقرار ہے، جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ پولیس کے مطابق گزشتہ رات محض آدھے گھنٹے کے دوران دو مختلف علاقوں — کورنگی اور نیو کراچی — میں ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر مسلح ملزمان کی فائرنگ سے دو نوجوان جاں بحق ہوگئے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کورنگی میں پیش آنے والے واقعے میں ملزمان نے موٹرسائیکل سوار کو روک کر اس سے موبائل فون اور نقدی چھیننے کی کوشش کی، مزاحمت پر فائرنگ کی گئی جس سے وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ اسی دوران نیو کراچی میں پیش آنے والے دوسرے واقعے میں بھی ملزمان نے مزاحمت کرنے والے نوجوان کو گولی مار کر ہلاک کردیا اور فرار ہوگئے۔
پولیس حکام کے مطابق رواں سال کے ابتدائی آٹھ ماہ میں ڈکیتی مزاحمت پر ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد 60 تک پہنچ چکی ہے، جب کہ سیکڑوں افراد زخمی ہوچکے ہیں۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ صرف رواں ماہ کے دوران ڈکیتی اور اسٹریٹ کرائمز کی متعدد وارداتیں رپورٹ ہوچکی ہیں، جن میں قیمتی اشیاء اور گاڑیاں چھیننے کے واقعات بھی شامل ہیں۔
شہری حلقوں اور سماجی تنظیموں نے اس بڑھتے ہوئے رجحان پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ اسٹریٹ کرائمز کے خلاف مؤثر اور سخت اقدامات کیے جائیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے، تاہم شہریوں کو بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔
کراچی میں بڑھتے ہوئے جرائم نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا موجودہ حکمتِ عملی شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے کافی ہے یا مزید سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔
