کراچی — تقریباﹰ دس سے پندرہ مسلح ڈاکوؤں نے نجی سوسائٹی کے ایک گھر پر دھاوا بول کر 70 سالہ ضعیف العمر شخص کو شدید تشدد کے بعد قتل کر دیا، اہل خانہ کا دعویٰ ہے۔
تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب بن قاسم کے علاقے مکان نمبر B-58، گلشن فلک ناز، نیشنل ہائی وے گلشن حدید فیز 2 ایکسٹنشن میں پیش آیا۔ ڈاکو صبح کے پونے چار بجے کے قریب گھر میں گھُس گئے، گھر کے تمام افراد کو یرغمال بنایا، آنکھوں پر پٹیاں باندھیں اور دو گھنٹے سے زائد عرصہ گھر میں رہ کر تشدد اور لوٹ مار کی واردات جاری رکھی گئی۔
مقتول کی شناخت محمد جاوید کے نام سے ہوئی۔ اُن کے بیٹے عبدالرؤف نے میڈیا کو بتایا کہ ڈاکوؤں نے ان کے والد کی ناک پر لوہے کی راڈ ماری، جس سے وہ پہلے زخمی ہوئے اور بعد ازاں اسپتال میں علاج کے دوران انتقال کر گئے۔
عبدالرؤف کا کہنا ہے کہ ڈاکوؤں نے ان کی والدہ اور بیوی کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔ جاتے ہوئے ڈاکو ساری نقدی، طلائی زیورات، موبائل فونز، دستی گھڑیاں، پلاٹ کی بلڈر فائل اور دیگر قیمتی سامان لے گئے۔ سی سی ٹی وی کا ڈی وی آر اور بیٹریاں بھی ساتھ تھیں۔
بن قاسم کے ایس ایچ او انسپکٹر فیصل رفیق نے تصدیق کی کہ سوسائٹی کے چھ ملازمین، جن میں سیکیورٹی گارڈز اور ایڈمنسٹریٹو اسٹاف شامل ہیں، کو حراست میں لیا گیا ہے۔ بیٹے کے مطابق سوسائٹی مینجمنٹ سے پہلے سے جھگڑا چل رہا تھا۔ قانونی کارروائی تدفین کے بعد مزید ہو گی۔
مقتول راو جاوید علی خان پاکستان اسٹیل میں سابق ڈپٹی مینجر ایس ایم ڈی تھے۔ اُن کی نماز جنازہ ہفتے کو نماز ظہر کے بعد جامع مسجد کے قریب ادا کی گئی اور پھر مقامی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔
سالِ رواں یکم جنوری سے اب تک کراچی میں مختلف ڈاکوں کی وارداتوں کے دوران کم و بیش 63 شہری قتل ہو چکے ہیں، پولیس کا کہنا ہے کہ وہ تمام واقعات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
