کراچی کا 30 ارب روپے مالیت کا گرین لائن فیز – اا کوریڈور منصوبہ اس وقت تعطل کا شکار ہوگیا ہے جب میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے تعمیراتی کام روکنے کا حکم جاری کیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ منصوبے میں طریقہ کار کی خلاف ورزی کی گئی اور کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) سے این او سی حاصل نہیں کیا گیا۔
یہ منصوبہ، جو گرو مندر سے میونسپل پارک تک پھیلا ہوا ہے، وفاقی حکومت کے کراچی ڈویلپمنٹ پلان کا حصہ ہے اور شہر کے ٹرانسپورٹ کے ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے نہایت اہم سمجھا جا رہا تھا۔ تاہم منصوبے پر عملدرآمد کرنے والی پاکستان انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (پی آئی ڈی سی ایل) نے کے ایم سی کے فیصلے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
کے ایم سی حکام کا کہنا ہے کہ پی آئی ڈی سی ایل نے کام شروع کرنے سے قبل لازمی این او سی حاصل نہیں کیا۔ دوسری جانب پی آئی ڈی سی ایل کا مؤقف ہے کہ اکتوبر 2017 میں ہی کے ایم سی انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ (I&QC) کے سپرنٹنڈنٹ انجینئر کی دستخط شدہ منظوری حاصل کرلی گئی تھی۔ کمپنی نے ایک وفاقی سطح پر منظور شدہ منصوبے کو محض زبانی احکامات پر روکنے کو "ناقابل قبول اور نقصان دہ” قرار دیا۔
پی آئی ڈی سی ایل کا مزید کہنا ہے کہ اگر میئر یا کے ایم سی کو کوئی اعتراض تھا تو اسے باضابطہ طور پر تحریری صورت میں آگاہ کیا جانا چاہیے تھا، جس پر این او سی فوری طور پر جاری کر دیا جاتا۔
ادھر کے ایم سی اس بات پر بضد ہے کہ منصوبے کے دوسرے مرحلے کے لیے کوئی معتبر این او سی جاری نہیں کیا گیا، اور یہ بھی واضح کیا کہ معطلی کا حکم براہِ راست میئر نے دیا۔ اس فیصلے کے بعد ٹھیکیدار نے سائٹ سے عملہ اور مشینری ہٹا لی ہے۔
یہ تنازع شدت اختیار کرچکا ہے اور امکان ہے کہ اس سلسلے میں میئر مرتضیٰ وہاب اور پی آئی ڈی سی ایل کے اعلیٰ حکام، بشمول سی ای او وسیم باجوہ اور جنرل منیجر شفی چھچھر، کے درمیان ملاقات ہوگی تاکہ مسئلے کا حل نکالا جائے اور تعمیراتی کام دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
