کوئٹہ کے علاقے جتک اسٹاپ کے قریب نجی واٹر سپلائی کا پلاسٹک سے بنا غبارہ نما واٹر ٹینک پھٹنے کے نتیجے میں ایک بچی جاں بحق جبکہ ایک ہی خاندان کے چار افراد زخمی ہو گئے۔
اہلِ علاقہ کے مطابق تقریباً 50 ہزار گیلن پانی کی گنجائش رکھنے والا ٹینک اچانک پھٹ گیا، جس کے باعث پانی قریبی گھر میں داخل ہو گیا اور شدید تباہی مچ گئی۔
حادثے کے نتیجے میں چھ کمروں پر مشتمل گھر کے دو کمرے مکمل طور پر منہدم ہو گئے جبکہ دیگر کمرے بھی متاثر ہوئے۔ پانی کے شدید دباؤ سے گھر کی بیرونی دیوار بھی گر گئی۔
لواحقین کے مطابق زخمیوں میں ایک خاتون اور دو بچے شامل ہیں، تمام متاثرہ افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔ زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔
اہلِ محلہ نے الزام عائد کیا کہ نجی واٹر سپلائی کی جانب سے غیر قانونی طریقوں سے رات بھر پلاسٹک کے غبارہ نما ٹینک کو پانی سے بھرا جاتا تھا۔ مقامی لوگوں کے مطابق رات کے وقت ٹرانسفارمر سے بجلی چوری کر کے ٹیوب ویل چلایا جاتا تھا۔
اہلِ علاقہ نے بتایا کہ اس سے قبل بھی اسی نوعیت کے واقعات پیش آ چکے ہیں اور شکایات کے باوجود کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔
متاثرہ خاندان اور علاقہ مکینوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان سے واقعے کا نوٹس لینے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
