نوجوان اداکار آہان پانڈے کی پہلی فلم سیّارہ اپنی ریلیز سے پہلے ہی خبروں میں ہے، مگر اس بار تعریف یا پروموشن کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس الزام کے تحت کہ فلم کی کہانی 2004 کی مشہور کورین فلم A Moment to Remember سے غیر معمولی حد تک مشابہت رکھتی ہے۔
جیسے ہی فلم کا ٹریلر سامنے آیا، فلم بینوں اور فلمی شوقین افراد نے فوراً نوٹس کیا کہ فلم کی کہانی، جذباتی موڑ، کرداروں کی نفسیاتی پیچیدگیاں، اور حتیٰ کہ کچھ سینز تک A Moment to Remember سے متاثر لگتے ہیں۔ کورین فلم کی کہانی ایک نوجوان خاتون کی ہے جسے یادداشت کھونے کی بیماری لاحق ہو جاتی ہے اور اُس کے شوہر کے ساتھ اُس کا تعلق، وفا، اور وقت کی تلخ حقیقتوں کا سامنا، سب کچھ بےحد دِل کو چھو لینے والا ہے۔ بالکل ویسا ہی سسپنس، جذبات، اور درد سیّارہ کے ٹریلر میں بھی دکھائی دیتا ہے۔
یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ بالی ووڈ پر غیر ملکی فلموں کی "بلا اجازت” کہانیاں استعمال کرنے کا الزام لگا ہو۔ وقتاً فوقتاً ہالی ووڈ، کورین، تھائی، اور جاپانی فلموں سے "متاثر” ہو کر بنائی گئی فلمیں منظرِ عام پر آتی رہی ہیں، مگر جب تک فلم ساز اس متاثر ہونے کا اعتراف نہ کریں، تب تک یہ بحث ختم نہیں ہوتی۔
سیّارہ کے ہدایتکار یا پروڈیوسر نے تاحال اس تنازع پر کوئی وضاحت نہیں دی، جو کہ شکوک و شبہات کو اور تقویت دے رہی ہے۔ ایسے میں سوشل میڈیا پر فلمی شائقین نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ آخر بھارتی سنیما کب تخلیقی خود مختاری اور اصل مواد پر توجہ دے گا؟ اور اگر کوئی فلم کسی اور کہانی سے متاثر ہو، تو کم از کم اُس کے خالق کو کریڈٹ دینا کیوں اتنا مشکل ہوتا ہے؟
فلم کے چاہنے والے اب یہ جاننے کے منتظر ہیں کہ سیّارہ واقعی ایک تخلیقی خراجِ تحسین ہے یا پھر بس ایک خوبصورتی سے لپٹی ہوئی "نقل”۔ بالی ووڈ کی ساکھ اور تخلیقی وقار کے لیے ایسے سوالات کا جواب دینا اب وقت کی ضرورت بن چکا ہے۔
