نامور گلوکارہ ہمیرہ ارشد نے معروف اداکار فواد خان کو موسیقی کے ریئلٹی شو پاکستان آئیڈل کے جج کے طور پر شامل کرنے پر شدید اعتراض اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے افراد جن کا موسیقی سے کوئی گہرا تعلق نہیں، انہیں گلوکاری کے مقابلوں میں جج نہیں بننا چاہیے۔
ہمیرہ ارشد نے ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں کہا کہ غیر موسیقار ججز کا انتخاب ایسے مقابلوں کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ان کے مطابق، “جنہیں موسیقی کی سمجھ نہیں، انہیں خود ہی ایسے شوز میں جج بننے سے انکار کر دینا چاہیے۔”
گلوکارہ کا کہنا تھا کہ گلوکاری کے مقابلوں میں جج بننے کے لیے موسیقی کی تکنیکی سمجھ، سر، تال اور آواز کی پہچان ضروری ہے۔ انہوں نے کہا، “اگر کسی مقابلے میں شریک گلوکار ان سے ایک تان لگانے کو کہے تو شاید وہ نہ لگا سکیں۔”
پاکستان آئیڈل جو تقریباً ایک دہائی کے وقفے کے بعد واپس آ رہا ہے، نے حال ہی میں اپنے نئے ججز پینل کا اعلان کیا ہے، جس میں راحت فتح علی خان، زیب بنگش، بلال مقصود اور فواد خان شامل ہیں۔ اگرچہ فواد خان نے اپنے کیرئیر کا آغاز راک بینڈ انٹیٹی پیراڈائم سے بطور گلوکار کیا تھا، لیکن گزشتہ چند برسوں میں وہ زیادہ تر اداکاری کے شعبے سے وابستہ رہے ہیں۔
اداکارہ کے اس بیان نے شوبز انڈسٹری میں ایک پرانی بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے — کیا ریئلٹی شوز میں شہرت رکھنے والے فنکاروں کو ترجیح دی جانی چاہیے یا موسیقی کے ماہرین کو؟
پاکستان آئیڈل کے منتظمین نے تاحال ہمیرہ ارشد کے اعتراض پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔ دوسری جانب، شو کے آڈیشنز جاری ہیں اور شائقین یہ دیکھنے کے منتظر ہیں کہ آیا یہ تنازعہ شو کی مقبولیت پر اثر انداز ہوگا یا نہیں۔
