اسلام آباد ایک بار پھر سینما کے رنگوں سے جگمگانے والا ہے کیونکہ یورپی فلم فیسٹیول 2025 کا آغاز 7 اور 8 نومبر کو پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (PNCA) میں ہونے جا رہا ہے۔ یہ تقریب یورپی یونین کے وفد برائے پاکستان کی جانب سے منعقد کی جا رہی ہے، اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ داخلہ بالکل مفت ہے — کسی قسم کی پیشگی رجسٹریشن کی ضرورت نہیں۔
دو روزہ فیسٹیول میں یورپ کے مختلف ممالک — آئرلینڈ، اسپین، فن لینڈ، بیلجیم، ہنگری، چیک ریپبلک، جرمنی اور فرانس — کی فلمیں شامل ہیں۔ یہ فلمیں نہ صرف یورپی ثقافت اور طرزِ زندگی کی جھلک پیش کرتی ہیں بلکہ انسانی جذبوں، تعلق، امید اور جدوجہد جیسے آفاقی موضوعات کو بھی اجاگر کرتی ہیں۔
پہلا دن: جمعہ، 7 نومبر
فیسٹیول کا آغاز شام 4 بجے چیک ریپبلک کی دستاویزی فلم Behind the Curtain of High Mountains سے ہوگا، جو معروف کوہ پیما دینا شتِربووا (Dina Štěrbová) کی زندگی اور اُن کے پہاڑوں کے سفر پر مبنی ہے۔
اس کے بعد شام 6 بجے ہنگری کی فلم Without Air دکھائی جائے گی، جو ایک ایسی استاد کی کہانی ہے جو اپنے نظریات کے باعث میڈیا اور معاشرتی دباؤ کا سامنا کرتی ہے — ایک موضوع جو آج کے دور میں بےحد اہمیت رکھتا ہے۔
دوسرا دن: ہفتہ، 8 نومبر
دوسرے دن کا آغاز صبح 11 بجے فن لینڈ کی فیملی فلم Itty Bitty Princess سے ہوگا، جو بچوں اور بڑوں دونوں کے لیے تفریح سے بھرپور کہانی پیش کرتی ہے۔
دوپہر 1 بجے مختصر فلموں کا ایک خصوصی سیشن ہوگا، جس میں جرمنی، فرانس اور کروشیا کی شارٹ فلمیں شامل ہوں گی:
Don’t Worry, Thermostat 6, Geo Engineering, So Many Forests اور A Sunny Day۔
یہ مختصر فلمیں ماحولیاتی مسائل سے لے کر سماجی طنز تک مختلف پہلوؤں کو چھوتی ہیں۔
دوپہر 2 بجے آئرلینڈ کی فلم That They May Face the Rising Sun دکھائی جائے گی، جس میں ایک جوڑے کی کہانی بیان کی گئی ہے جو لندن سے دیہی آئرلینڈ منتقل ہوتا ہے — تعلق، سکون اور نئے آغاز کی کہانی۔
شام 4 بجے بیلجیم کی فلم My Dad is a Sausage پیش کی جائے گی، جو ایک والد اور بیٹی کے رشتے پر مبنی دلچسپ اور جذباتی فلم ہے۔
فیسٹیول کا اختتام شام 6 بجے اسپین کی فلم The Olive Tree سے ہوگا — ایک نوجوان لڑکی کی اپنے خاندان کے پرانے زیتون کے درخت کو واپس لانے کی جدوجہد، جو اپنی جڑوں کی تلاش کی علامت بھی ہے۔
سینما — ثقافتی رابطے کا ذریعہ
یورپی فلم فیسٹیول صرف فلموں کا مجموعہ نہیں بلکہ ثقافتی ربط اور مکالمے کا پل ہے۔ جیسا کہ یورپی یونین کے نمائندے نے افتتاحی تقریب میں کہا:
"سینما ہمیں ایک دوسرے کی آنکھوں سے دنیا دیکھنا سکھاتا ہے — اور یہی حقیقی مکالمے کی شروعات ہے۔”
اسلام آباد کے بعد یہ فیسٹیول کراچی اور لاہور میں بھی منعقد ہوگا، تاکہ یورپی کہانیاں پاکستان کے مزید شہروں تک پہنچ سکیں۔
تمام فلموں کا داخلہ مفت ہے، اور کسی پیشگی رجسٹریشن کی ضرورت نہیں — بس جائیں، نشست حاصل کریں اور یورپی سینما کے رنگوں سے لطف اندوز ہوں۔
