کراچی کے ایک فلیٹ سے 8 سے 10 ماہ پرانی لاش ملنے کے بعد ماڈل و اداکارہ حمیرا اصغر کے والد، ڈاکٹر اصغر علی، پہلی بار منظرِ عام پر آئے اور اپنی طویل خاموشی توڑ دی۔
حمیرا کی لاش ان کے بھائی اور بہنوئی کراچی سے لاہور منتقل کر کے ماڈل ٹاؤن کے قبرستان میں سپردِ خاک کی گئی، جہاں تدفین کے موقع پر ڈاکٹر اصغر علی پہلی بار سامنے آئے۔ اس سے قبل بعض اطلاعات میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ انہوں نے بیٹی کی لاش وصول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
قبرستان میں میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر اصغر علی نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "ایسے کیسز میں جب تک پوسٹ مارٹم مکمل نہ ہو، لاش اہلِ خانہ کے حوالے نہیں کی جا سکتی، کیونکہ اس کا ایک قانونی طریقہ کار ہوتا ہے جس میں وقت لگتا ہے۔”
بیٹی کی موت کی ممکنہ وجوہات یا پوسٹ مارٹم رپورٹ سے متعلق سوالات پر انہوں نے تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا: "اس بارے میں ابھی کچھ کہنا مناسب نہیں۔” ان کا کہنا تھا: "جو کچھ میری بیٹی کے ساتھ ہوا، اس کا حساب اللہ تعالیٰ لے گا۔”
ڈاکٹر اصغر تدفین کے فوراً بعد قبرستان سے چلے گئے اور مزید کسی سوال کا جواب نہیں دیا۔
واضح رہے کہ فادرز ڈے کے موقع پر حمیرا اصغر نے اپنے والد کو ان کا ایک رنگین اسکیچ تحفے میں دیا تھا، جسے سوشل میڈیا پر خوب پذیرائی ملی تھی۔
