نومبر 2، 2025
ویب ڈیسک
بھارت کی ریاست آندھرا پردیش کے شہر شری کاکولم میں ایک مذہبی تقریب کے دوران بھگدڑ مچنے سے کم از کم 10 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ واقعے نے پورے ملک کو افسردہ کر دیا ہے اور عوامی اجتماعات میں حفاظتی انتظامات پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، مندر میں سینکڑوں عقیدت مند مذہبی رسومات میں شرکت کے لیے جمع ہوئے تھے۔ تقریب کے اختتام پر جب لوگ باہر نکلنے لگے تو ہجوم میں اچانک بدنظمی پھیل گئی۔ جو لوگ اندر داخل ہو رہے تھے، وہ باہر نکلنے والوں سے ٹکرا گئے، جس کے نتیجے میں شدید بھگدڑ مچ گئی۔
ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں کئی افراد کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ مقامی انتظامیہ نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق، مندر میں ہجوم بہت زیادہ تھا اور کوئی واضح انتظام نظر نہیں آ رہا تھا۔ ایک عینی شاہد نے بتایا، “لوگ ایک دوسرے پر گر رہے تھے، کسی کو سانس لینے کی بھی جگہ نہیں تھی۔”
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں حالیہ برسوں میں اس نوعیت کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جس کی بڑی وجہ ناقص ہجوم کنٹرول، تنگ راستے اور حفاظتی اصولوں پر عملدرآمد کی کمی ہے۔
