مذاکرات میں تعطل، کانگریس نے جنگی اختیارات پر نگرانی کا مطالبہ کر دیا
امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایک قرارداد منظور کر لی ہے جس کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں سے متعلق اختیارات کو محدود کرنا ہے۔ اس اقدام کو جاری تنازع اور تعطل کا شکار سفارتی کوششوں کے تناظر میں کانگریس کی بڑھتی ہوئی تشویش کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔ قرارداد کو ڈیموکریٹ اراکین کے ساتھ چند ریپبلکن اراکین کی حمایت بھی حاصل ہوئی۔
قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی صرف اسی صورت میں جاری رکھی جائے جب کانگریس اس کی باضابطہ منظوری دے۔ اگرچہ اس قرارداد کی علامتی اہمیت بہت زیادہ ہے، تاہم اس کے مؤثر نفاذ کے لیے مزید قانون سازی اور دیگر مراحل سے گزرنا ہوگا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری سفارتی کوششیں کسی نمایاں پیش رفت تک نہیں پہنچ سکیں۔ متعدد بیانات اور امید افزا اشاروں کے باوجود مذاکرات میں ابھی تک کوئی فیصلہ کن کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔
قرارداد کے حامیوں کا کہنا ہے کہ جنگ اور فوجی کارروائیوں سے متعلق فیصلوں میں کانگریس کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور آئین کے مطابق اس کی منظوری ضروری ہے۔ دوسری جانب مخالفین کا مؤقف ہے کہ ایسے اقدامات صدر کے فوری ردعمل کی صلاحیت کو محدود کر سکتے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ ووٹنگ انتظامیہ کے لیے ایک غیر معمولی سیاسی چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے اور اس سے جنگ کی لاگت، مدت اور مقاصد پر جاری بحث مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔
قرارداد اب مزید قانونی اور سیاسی مراحل کی جانب بڑھ رہی ہے جبکہ عالمی مبصرین ایران سے متعلق امریکی پالیسی، سفارتی کوششوں اور خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
