28 جولائی،2025
(NDMA) نے پیر کے روز شمالی پاکستان کے حساس علاقوں کے لیے شدید بارش، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ جاری کر دیا۔ گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں 28 جولائی سے 31 جولائی کے دوران موسلا دھار بارشوں کے باعث قدرتی آفات کا شدید خطرہ ہے۔
ترجمان NDMA کے مطابق گلگت، سکردو، ہنزہ، شگر، مظفرآباد، نیلم ویلی اور باغ کے اضلاع سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ ایک طاقتور مغربی ہواؤں کا سلسلہ مون سون بارشوں کو مزید شدت دے رہا ہے، جس سے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور نشیبی علاقوں میں اچانک سیلاب (فلیش فلڈز) کا خطرہ کئی گنا بڑھ گیا ہے۔
چترال وادی، خاص طور پر بونی اور ریشن علاقوں میں بارش کے ساتھ گلیشیئرز کے پگھلنے سے دریائے چترال کے بہاؤ میں غیر معمولی اضافہ متوقع ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو کئی دیہات زیرِ آب آ سکتے ہیں۔
NDMA کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق جون کے آخر سے جاری مون سون سیزن کے دوران اب تک 279 افراد جاں بحق اور 676 زخمی ہو چکے ہیں۔ پنجاب میں سب سے زیادہ 151 اموات ریکارڈ ہوئیں، جبکہ خیبر پختونخوا میں 64، سندھ میں 25، بلوچستان میں 20، گلگت بلتستان میں 9، آزاد کشمیر میں 2 اور اسلام آباد میں 8 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
اب تک ملک بھر میں 1,553 مکانات کو نقصان پہنچا ہے اور 374 سے زائد مویشی بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔ NDMA نے ایمرجنسی اقدامات تیز کرنے کی ہدایت دے دی NDMA نے تمام صوبائی و ضلعی اداروں کو ہدایت دی ہے کہ ریسکیو ٹیمیں مکمل الرٹ پر رکھی جائیں، خطرناک علاقوں میں مشینری، خوراک، پانی اور ادویات پہلے سے پہنچائی جائیں، اور عوام کو بروقت خبردار کیا جائے۔
عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ندی نالوں، دریا کناروں اور پہاڑی ڈھلوانوں سے دور رہیں، خاص طور پر شام اور رات کے اوقات میں سفر سے گریز کریں۔ ماہرین کا انتباہ 2022 جیسے حالات دوبارہ نہ پیدا ہوں
ماحولیاتی ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ اگر پیشگی اقدامات نہ کیے گئے تو 2022 کی تباہ کن بارشوں جیسے حالات دوبارہ جنم لے سکتے ہیں، جنہوں نے ملک میں تاریخی نقصان پہنچایا تھا۔ NDMA کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال کے لیے مکمل تیاری کی جا رہی ہے۔
