سپریم کورٹ نے منگل کے روز پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی جانب سے دائر ضمانت کی درخواستوں پر پنجاب حکومت کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ یہ درخواستیں 9 مئی کے پرتشدد واقعات سے متعلق مقدمات میں دائر کی گئی تھیں۔
چیف جسٹس آف پاکستان یحيیٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے عمران خان کی ان درخواستوں پر سماعت دوبارہ شروع کی جن میں لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے، جس کے تحت ان کی بعد از گرفتاری ضمانت مسترد کر دی گئی تھی۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے مشاہدہ کیا کہ درخواستوں کے ساتھ کچھ نتائج منسلک ہیں، تاہم عدالت اس مرحلے پر نہ تو ان کی درستگی پر کوئی تبصرہ کرے گی اور نہ ہی قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔ چیف جسٹس نے کہا، "اس مرحلے پر ان نکات پر بات کرنے سے کسی بھی فریق کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔”
چیف جسٹس نے دونوں فریقوں کے وکلاء کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ سماعت کے لیے قانونی نکات پر تیاری کریں۔ کیس کی سماعت 19 اگست تک ملتوی کر دی گئی۔
عمران خان، جو اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں، نے آئین کے آرٹیکل 185(3) کے تحت درخواستیں دائر کیں، جن میں 24 جون 2025 کے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی اجازت مانگی گئی تھی۔ یہ فیصلہ ان کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست کو مسترد کرتا ہے، جو ایف آئی آر نمبر 103/2023 کے تحت تھانہ سرور روڈ لاہور میں درج مقدمے سے متعلق ہے، جس میں پاکستان پینل کوڈ کی متعدد دفعات اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 7 شامل ہیں۔
لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ درخواست گزار کے خلاف الزامات ضابطہ فوجداری کی دفعہ 497 کے ممنوعہ دائرہ کار میں آتے ہیں اور وکیل ملزم کوئی ایسا جواز پیش نہیں کر سکے جو کیس کو مزید تفتیش کے قابل بنائے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ عمران خان کا کیس دیگر شریک ملزمان سے مختلف ہے۔
9 مئی کے مقدمات ان پرتشدد مظاہروں سے جڑے ہیں جو 2023 میں عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پھوٹ پڑے تھے، جن میں فوجی تنصیبات اور سرکاری املاک پر حملے شامل تھے۔
