ابوظہبی میں اساتذہ کے لیے ضابطہ اخلاق اتنا سخت کر دیا گیا ہے کہ اب کلاس روم میں شاید صرف نصاب ہی نہیں بلکہ ڈریس کوڈ کی تعلیم بھی دی جائے! حکومت نے نیا "کوڈ آف پروفیشنل ایتھکس” جاری کیا ہے جس کے تحت غیر شائستہ لباس پہننے، ساتھیوں کو ہراساں کرنے، افواہیں پھیلانے اور خفیہ معلومات افشا کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس کا مقصد تعلیمی اداروں میں ایسے پروفیشنل ازم کو یقینی بنانا ہے جو دوپہر کے وقت شیخ زاید روڈ کی دھوپ کی طرح چمکے۔
تفصیلات کے مطابق، اس ضابطہ اخلاق میں مذہب، نسل، جنس یا سماجی حیثیت کی بنیاد پر امتیازی سلوک پر سخت پابندی عائد کی گئی ہے، جبکہ حاملہ خواتین اور نئی ماؤں کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کو سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔ انتہاپسندی، نسل پرستی، بُلیئنگ اور نفرت انگیزی پر بھی کڑی روک لگا دی گئی ہے۔ مختصر یہ کہ اب کلاس روم میں صرف بلیک بورڈ نہیں بلکہ اخلاقی قطب نما بھی ضروری ہوگا۔
رہا انٹرنیشنل اسکول کے پرنسپل رائن اسٹیپک نے کہا کہ پروفیشنل ازم صرف پڑھانے تک محدود نہیں بلکہ یہ بات چیت اور تعاون میں بھی جھلکنا چاہیے۔ شائننگ اسٹار انٹرنیشنل اسکول کی ایچ آر منیجر، انیلا آنند نے بتایا کہ مینٹورشپ پروگرامز، پیئر آبزرویشن اور ٹاؤن ہال میٹنگز کے ذریعے ٹیم ورک کو مضبوط بنایا جاتا ہے، جبکہ عملے کے لیے وزارتِ تعلیم اور ADEK کے ضابطہ اخلاق پر دستخط کرنا لازمی ہے۔
اسکول کی پرنسپل ابھیلاشا سنگھ کے مطابق، ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر کارروائی کی جاتی ہے جو تربیتی نشستوں سے شروع ہو کر تادیبی سزاؤں تک پہنچ سکتی ہے، اور سنگین معاملات براہِ راست ADEK کے سپرد کیے جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات اساتذہ، والدین اور طلبہ کے درمیان اعتماد کو مضبوط کریں گے اور تعلیمی اداروں میں ایک ایسا پیشہ ورانہ ماحول پیدا کریں گے جہاں نہ صرف علم بانٹا جائے گا بلکہ اخلاقیات بھی نصاب کا حصہ ہوں گی۔ یوں لگتا ہے کہ ابوظہبی کے اسکولوں میں ’’کتاب‘‘ اور ’’کردار‘‘ ایک ہی صفحے پر آ گئے ہیں۔
