کراچی – سندھ پولیس کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق رواں سال شہرِ قائد میں بھتہ خوری اور اسٹریٹ کرائمز کے واقعات میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
اے آئی جی آپریشنز کی جانب سے آئی جی سندھ کو پیش کی گئی تقابلی رپورٹ کے مطابق، مجموعی طور پر 118 بھتہ خوری کی شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے صرف 44 کیسز حقیقی بھتہ خوری سے متعلق ثابت ہوئے اور ان پر باقاعدہ تحقیقات کی گئیں، جبکہ باقی 74 شکایات کاروباری یا ذاتی تنازعات سے متعلق تھیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ 44 تصدیق شدہ کیسز میں سے 39 کیسز حل کرلیے گئے، جس کی شرح 87 فیصد بنتی ہے۔ ان مقدمات میں ملوث 78 ملزمان کی شناخت کی گئی جن میں سے 43 گرفتار اور 5 مختلف پولیس مقابلوں میں ہلاک ہوئے۔
آئی جی سندھ سے تاجربرادری کی ملاقات کے بعد پولیس کارروائیوں میں تیزی آئی، جس کے نتیجے میں گزشتہ دس دنوں کے دوران چار خطرناک بھتہ خور — عابد ہادی، سعید، غلام قادر اور کاٹھیاواڑی گروپ کے احتشام عرف آصف برگر — مختلف مقابلوں میں مارے گئے۔
آئی جی سندھ نے کہا کہ پولیس تاجر برادری کے تعاون سے صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے، اور معیشت میں رکاوٹ ڈالنے والے تمام عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے تجارتی مراکز پر سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کو قابلِ تحسین اقدام قرار دیا۔
اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں پرتشدد جرائم کی یومیہ شرح جنوری 2024 میں 2.13 سے کم ہو کر ستمبر 2025 میں 1.06 ہوگئی، جو 52 فیصد کمی ظاہر کرتی ہے۔ اسی طرح موبائل فون چھیننے کے واقعات میں 38 فیصد، وہیکل چھیننے میں 43 فیصد، اور وہیکل چوری میں 34 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر اسٹریٹ کرائمز میں 36 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
مزید بتایا گیا کہ رواں سال اغواء برائے تاوان کے 34 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں 37 مغوی شامل تھے۔ ان میں سے 35 کو پولیس نے بازیاب کرلیا، جبکہ 2 مغویوں کی بازیابی کے لیے کارروائی جاری ہے۔ پولیس نے ان کیسز میں 46 اغواء کاروں کو گرفتار اور 2 کو مقابلوں میں ہلاک کیا۔
سندھ پولیس نے واضح کیا کہ سندھ حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تاجربرادری کے باہمی تعاون سے امن و امان اور کاروباری ماحول کے استحکام کے لیے موثر اقدامات جاری رہیں گے۔
