اسرائیل اور حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے پہلے مرحلے — جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے — پر اتفاق کر لیا ہے، جو دو سال سے جاری تباہ کن جنگ کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیشرفت قرار دی جا رہی ہے۔
یہ معاہدہ مصر کے شہر شرم الشیخ میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات کے دوران طے پایا، جس میں قطر، ترکی اور مصر کے ثالثوں کے ساتھ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور اسرائیلی نمائندے شریک ہوئے۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا کہ تمام یرغمالیوں کو جلد رہا کیا جائے گا اور اسرائیلی افواج متفقہ لائن تک واپس چلی جائیں گی، اسے انہوں نے “پائیدار امن کی جانب پہلا قدم” قرار دیا۔
اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو نے معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت جمعرات کو اس کی منظوری دے گی، “اللہ کے فضل سے ہم تمام یرغمالیوں کو واپس لائیں گے۔”
حماس نے بھی معاہدے کی تصدیق کی، جس کے تحت اسرائیلی انخلا اور یرغمالی-قیدی تبادلہ شامل ہے۔ تنظیم نے عالمی ضامن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو مکمل عمل درآمد کا پابند بنائیں۔
ذرائع کے مطابق زندہ یرغمالیوں کی رہائی 72 گھنٹوں کے اندر متوقع ہے، جبکہ جاں بحق قیدیوں کی لاشوں کی بازیابی میں وقت لگ سکتا ہے۔
منصوبے کے اگلے مرحلے میں غزہ کی جنگ کے بعد کی انتظامیہ کے لیے ایک بین الاقوامی ڈھانچے کی تجویز دی گئی ہے جس میں سابق برطانوی وزیرِاعظم ٹونی بلیئر کا کردار شامل ہو سکتا ہے۔ تاہم حماس نے کسی غیر ملکی کردار کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کی حکمرانی ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹ حکومت کے حوالے کی جائے جو عرب اور مسلم ممالک کی زیر نگرانی ہو۔
عرب ممالک نے منصوبے کی حمایت کی ہے لیکن واضح کیا ہے کہ یہ عمل بالآخر آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر منتج ہونا چاہیے — جسے اسرائیل اب بھی تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے۔
