کراچی: سندھ کے وزیرِ داخلہ ضیاءالحسن لنجار نے اعلان کیا ہے کہ تاجروں اور کاروباری طبقے کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک خصوصی ویب پورٹل تیار کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے شہری بھتہ خوری اور دیگر جرائم سے متعلق شکایات براہِ راست درج کرا سکیں گے۔
کراچی پولیس آفس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ نے کہا کہ
’’اس پورٹل کے ذریعے موصول ہونے والی تمام شکایات پر فوری کارروائی کی جائے گی، اور پولیس کی جانب سے فوری ایکشن یقینی بنایا جائے گا۔‘‘
اس موقع پر انسپکٹر جنرل سندھ غلام نبی میمن اور ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو بھی موجود تھے۔
ضیاءالحسن لنجار نے کہا کہ اگر کوئی تاجر بھتہ خوری کی پرچی یا دھمکی موصول ہونے کی شکایت اس پورٹل کے ذریعے درج کراتا ہے تو فوری طور پر ایف آئی آر درج کی جائے گی اور قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جائے گا۔
ایڈیشنل آئی جی جاوید عالم اوڈھو نے وضاحت کی کہ یہ اقدام اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ تاجروں کو تھانوں کے چکر لگانے کی زحمت نہ اٹھانی پڑے۔
’’ہم چاہتے ہیں کہ کاروباری طبقہ محفوظ ماحول میں آزادانہ طور پر اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکے۔‘‘
وزیرِ داخلہ نے کہا کہ کاروباری برادری کا تحفظ اور انہیں ایک محفوظ و آزاد تجارتی ماحول فراہم کرنا سندھ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھتہ خوری حالیہ دنوں میں ایک سنجیدہ مسئلہ بن چکی ہے، اور چونکہ کراچی ملک کا معاشی مرکز ہے، اس لیے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ تاجروں کو تحفظ فراہم کرے تاکہ وہ بلا خوف کاروبار کر سکیں۔
ضیاءالحسن لنجار نے بتایا کہ اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (SIU)، کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (CIA) اور ضلعی پولیس مشترکہ طور پر بھتہ خوری کے خاتمے کے لیے موثر کارروائیاں کر رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت وسیع اللہ لاکھور اور صمد کاٹھیاواڑی کے گروہ ایران سے بھتہ خوری کی سرگرمیاں چلا رہے ہیں، جن کی گرفتاری کے لیے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی درخواست دی جا چکی ہے، اور وفاقی حکومت سے بھی تعاون مانگا جائے گا۔
’’کراچی جیسے شہر میں بھتہ خوری ایک نہایت حساس اور سنگین مسئلہ ہے، تاہم حکومت عوام کے تعاون سے اس جرم کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے پرعزم ہے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ پولیس کارروائیوں کے دوران چار بھتہ خور مارے جا چکے ہیں، جو لاکھو اور کاٹھیاواڑی گروہوں سے تعلق رکھتے تھے۔
’’حکومت کسی بھی گروہ یا مجرم کو شہریوں کو خوفزدہ کرنے یا بھتہ کی پرچیاں تقسیم کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔‘‘
ایڈیشنل آئی جی جاوید عالم اوڈھو کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں میں 20 مشتبہ بھتہ خور گرفتار کیے گئے، جب کہ پولیس نے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پر بھی نمایاں حد تک قابو پایا ہے۔
بدھ کو جاری ہونے والی پولیس کرائم رپورٹ کے مطابق 2025ء میں اب تک کراچی میں بھتہ خوری کے 118 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں سے صرف 44 حقیقی کیسز تھے، جبکہ باقی 74 ذاتی یا کاروباری تنازعات سے متعلق تھے۔ ان 44 کیسز میں سے 39 حل کیے جا چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں اسٹریٹ کرائمز میں 52 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔ 2024ء میں روزانہ اوسطاً 252 وارداتیں رپورٹ ہوتی تھیں، جب کہ 2025ء میں یہ تعداد کم ہو کر 167 روزانہ رہ گئی ہے۔
